Muslim Elders

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے صدر شیخ الازہر نے زاید ایوارڈ برائے انسانى بهائى چاره 2023 کی جیوری کے اراکین سے ملاقات کی۔

امام الاکبر ، پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چیئرمین مسلم كونسل آف ایلڈرز ، نے زاید ایوارڈ ابرائے انسانی بهائى چاره 2023 کی جیوری سے ملاقات کی۔ جس كا مقصد عالمی انسانى بهائى چاره كے مستقبل ، اور انسانی بقائے باہمی کی اقدار کو پھیلانے اور اس شعبے میں فعال کردار ادا کرنے والے لوگوں اور اداروں کو عزت دینے میں ایوارڈ کے کردار پر زور دینا ہے۔

.ملاقات کے دوران، جو کہ 4 نومبر کو امام الاکبر كے "مملکتِ بحرین کے دورے” کے موقع پر منعقد ہوئی، امام الاکبر ، شیخ الازہر نے جیوری کے اراکین پر زور دیا کہ وہ انسانی برادری کی دستاویز کی اقدار کے فروغ کے لیے کام جاری رکھیں۔؛ جس پر انہوں نے تقدس مآب پوپ فرانسس کے ساتھ 2019 میں ابوظہبی میں دستخط کیے تھے، اور اس کے پرامن بقائے باہمی، مکالمے اور مشرق و مغرب کے درمیان یکجہتی کے اصولوں کو مستحکم كريں۔

امام الاکبر نے کہا: "میں امید کرتا ہوں کہ ہم مل کر کام کریں گے اور انسانی بھائی چارے کی دستاویز کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کو تیز کریں گے، جو کہ دو مخلص دلوں سے نکلا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ خدا پر ایمان اور تمام انسانیت کى خدمت كے جذبے سے نکلا ہے۔ ، اور شاید یہ خدا کی مرضی تھی کہ یہ مشترکہ اعلامیہ هو جو سب سے زیادہ کمزور لوگوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتا ہے، ہماری دنیا کو آج ان کوششوں کی اشد ضرورت ہے جو انسانی خاندان کے تمام افراد کے لیے ایک بہتر دنیا کی تشکیل میں کردار ادا کریں”۔ اس اميد كا إظهار كرتے هوئے كه جیوری انسانی بھائی چارے کی اقدار کو مستحکم کرنے کے لیے ایوارڈ کو عالمی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے پر کام کرے گی۔

.اپنی طرف سے، جیوری کے اراکین نے اپنے اپنے معاشروں میں تمام فریقوں کو انسانی بھائی چارے کے پیغام کو آگے بڑھانے، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ، تعلیم کو فروغ دینے اور تنازعات کو حل كرنے کے حوالے سے اپنے منصوبوں کے بارے میں اپنی تجاویز امام الاکبر کے ساتھ شیئر کیں۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دستاویز میں موجود اقدار زايد ایوارڈ برائے انسانى بهائى چاره 2023 کے چوتھے سیشن میں اعزازی افراد کے انتخاب کے دوران ان کے لیے رہنما کا کام کریں گی۔

.جیوری کے ارکان نے امام الاکبر اور پوپ فرانسس کی کاوشوں کی تعریف کی – جو کہ سال 2019 کے لیے زايد ایوارڈ برائے انسانى بهائى چاره 2023 کے اعزازی ایوارڈ يافته ہیں – اور ان کی قریبی دوستی، اور امید کے جذبے کو پھیلانے اور ایک ایسی دنیا میں انسانی بھائی چارے کی اقدار کو پهيلانے کے لیے ان کے عزم کی تعریف کی۔ جو تنازعات اور بحران کی لعنت سے دوچار ہے۔

زايد ایوارڈ برائے انسانى بهائى چاره 2023 کے سيشن کے لئے آزاد جیوری میں اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل اور تہذیبوں کے اتحاد کے لیے اعلیٰ نمائندے، محترم میگوئل اینجل موراتینوس، جمہوریہ کوسٹا ریکا کى سابق نائب صدر محترمه ڈاکٹر ایپسی کیمبل بار،ہولی سی میں انجیلی بشارت کے لیے ڈیکاسٹری کے ڈین کارڈینل لوئس انتونیو ٹیگل، 2014 کے نوبل امن انعام يافته اور بچوں کے حقوق کے شعبے میں سرگرم مسٹر کیلاش ستیارتھی، 2015 کى نوبل امن انعام یافتہ اور کاروباری شخصیت ڈاکٹر وداد بوشماوي اور زايد ایوارڈ برائے انسانى بهائى چاره کے سیکرٹری جنرل جج محمد عبدالسلام شامل ہیں ۔

زايد ایوارڈ برائے انسانى بهائى چاره کے سیکرٹری جنرل جج محمد عبدالسلام نے اجلاس کے بعد کہا: یہ اجلاس جیوری کے لیے ایک مضبوط محرک ہے، جو افریقہ، ایشیا، یورپ اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے متنوع ثقافتوں اور پس منظروں پر مشتمل ہے۔ یہ ایوارڈ ہمیشہ پوری دنیا سے ان افراد اور اداروں کے لیے نامزدگیوں کے حصول کا منتظر رہتا ہے جو انسانی بھائی چارے کی اقدار کو عملى جامه پہناتے ہیں جن پر امام الاکبر اور پوپ فرانسس نے اپنے تاریخی اعلان میں زور دیا تھا۔

زايد ایوارڈ برائے انسانى بهائى چاره ایک آزاد، سالانہ عالمی ایوارڈ ہے جو تمام پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور اداروں کی کوششوں کو مناتا ہے جو یکجہتی، دیانتداری، انصاف پسندی اور امید کی لازوال اقدار کو فروغ دینے کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کی حمایت اور تكريم کی کوشش کرتا ہے۔

یہ ایوارڈ 2019 میں ابوظہبی میں پوپ فرانسس اور امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چیئرمین مسلم كونسل آف ایلڈرز کے درمیان تاریخی ملاقات کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ جس کے دوران انہوں نے انسانی برادری کی دستاویز پر دستخط کیے تهے ۔.

یہ ایوارڈ، جس کی مالیت ایک ملین ڈالر ہے، سالانہ دیا جاتا ہے۔ جيتنے والوں کے ناموں کا اعلان ہر سال فروری میں کیا جاتا ہے۔

یہ ایوارڈ متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان (خدا ان کی روح کو سکون عطا فرمائے) کے اعزاز میں دیا گیا ہے۔ یہ جو اقدار منائی جاتی ہیں وہ شیخ زاید کی تمام شعبوں کے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنےکی لگن، ان کی اخلاقی میراث، انسان دوستی، دوسروں کے لیے ان کا احترام اور ان کی مدد کرنے کی عکاسی کرتی ہیں۔ چاہے ان کا مذہب، جنس، نسل یا قومیت کچھ بھی ہو۔