واشنگٹن – ریاستہائے متحدہ میں کیتھولک بشپس کی یونین نے امریکہ میں 200 سے زیادہ بشپس کو انسانی برادری کی دستاویز تقسیم کرنے کا اعلان کیا، اور انہوں نے مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان مستقبل کے قومی مکالمے میں اس دستاویز کو بطور حوالہ استعمال کرنے کا عہد کیا۔
ڈیوڈ پریسکاٹ ٹیلے، بشپ آف میمفس اور بشپس کمیشن فار ایکومینیکل اینڈ ریلیجیس افیئرز کے چیئرمین نے کہا: "آج، انسانی برادری سے متعلق دستاویز پورے امریکہ میں تمام کیتھولک بشپوں میں تقسیم کی گئی، اور ہم نے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس دستاویز كو استعمال کریں كيونكه يه پوری دنیا میں مسلمانوں اور دیگر مذہبی روایات سے تعلق رکھنے والے دوستوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔”
انہوں نے مسلم كونسل آف ایلڈرز کے سکریٹری جنرل جج محمد عبدالسلام کے نام ایک رسمى خطاب میں مزید کہا: "امریکہ میں کیتھولک بشپس کی یونین مستقبل میں قومی بین المذاہب ہر ایک مکالمے میں انسانی بھائی چارے کی اقدار کو اجاگر کرنے کی خواہشمند ہوگی۔ ” انہوں نے مزيد کہا، "میرے بھائی بشپس اور مجھے اس پروجیکٹ کی کوششوں اور اقدامات سے حوصلہ ملا ہے کہ ہم بھائی چارے كو اپنے ہر کام میں مركزى اهميت دينے کے لیے اپنی توانائیاں يكجا کریں۔”
امریکہ میں کیتھولک بشپس کی یونین کا یہ فیصلہ مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل جج محمد عبدالسلام کے گزشتہ ستمبر میں واشنگٹن میں بشپس کی یونین کا دورہ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ ریاستہائے متحدہ میں کیتھولک بشپس کی یونین کے سالانہ اجلاس میں بھی تقریر کی، جس کے دوران انہوں نے انسانی برادری کی دستاویز کے اثر اور تاریخی اہمیت پر زور دیا۔ جس پر ابوظہبی میں 2019 میں کیتھولک چرچ کے پوپ، مقدس پوپ فرانسس، اور امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الازہر ،چیئرمین مسلم كونسل آف ایلڈرز نے عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان، متحدہ عرب امارات کے صدر کی سرپرستی میں دستخط کیے تهے۔
مسلم كونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ انسانی برادری کی دستاویز میں درج اقدار۔ جيسا كه تنوع، مساوات، انصاف اور انسانی حقوق کا احترام اور ریاستہائے متحدہ میں کیتھولک بشپس کی یونین کی سٹریٹجک ترجیح سمیت؛ انسانی وقار کو آگے بڑھانے اور اسكى زندگی کو بہتر بنانے کے لیے امریکی اقدار کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہیں انہوں نے مکالمے کے اقدامات اور کوششوں اور بھائی چارے کی دستاویز کو فعال کرنے کی وضاحت کی۔
بشپس یونین کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے، جج عبدالسلام نے کہا: "مسلم كونسل آف ایلڈرز امریکہ میں کیتھولک بشپس یونین کے اقدامات کے بعد توقع كرتى ہے كه يه دستاویز امریکہ میں بیداری اور حمایت حاصل کريگى، اور ہم اس دستاویز کو امریکہ کے اندر اور باہر فعال کرنے میں مدد کے لیے تیار ہیں۔”
اپنی طرف سے، بشپس نے جج محمد عبدالسلام کی لکھی ہوئی کتاب "امام، پوپ اور مشکل راستہ” کے لیے اظہار تشکر کیا۔ جو انسانی برادری کی دستاویز کے سفر کو بیان کرتى ہے، جو "کیتھولک اور مسلمانوں کے لیے یکساں طور پر ایک بنيادى مصدر” ہے۔
ریاستہائے متحدہ میں کیتھولک بشپس کی کنفیڈریشن، امریکہ میں کیتھولک چرچ کے لیے مرکزی قیادت کے ہیڈكوارٹر کے طور پر، پورے ریاستہائے متحدہ میں 195 ڈائوسیز کے ذریعے 74 ملین سے زیادہ کیتھولک کی خدمت کرتی ہے۔
