مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل، جج محمد عبدالسلام نے اس بات کی تصدیق کی کہ مذہبى رہنماؤں اور مذہبی اداروں پر اپنی روحانی طاقت اور دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں پر زبردست اثر و رسوخ کے وجه سے عالمی چیلنجوں کا سامنا کرنے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں بڑی ذمہ داری عائد هوتى هے .
اسپین میں منعقدہ بین الاقوامی میٹنگ "ایک دوراہے پر: سماجی اور ماحولیاتی بحران کو حل کرنے کے لیے ایک کثیر مذہبی اور بین النسلى ردعمل” کے افتتاحی سیشن میں ورچوئل شرکت کے دوران اپنی تقریر میں، جس کا اہتمام ریلجنز فار پیس نے اسپین کے شہر منریسا کے تعاون سے کیا تھا۔ سکریٹری جنرل نے کہا کہ ہم واقعی ایک دوراہے پر ہیں۔ آج ہماری دنیا کو شدید سماجی اور ماحولیاتی بحرانوں کے سامنے ایک حقیقی چیلنج کا سامنا ہے جس نے اپنے پيچهے لاکھوں پناہ گزینوں، بے گھر افراد، مهاجرين اور خانہ بدوشوں کو چھوڑا ہے، بالکل اسی طرح جیسے دنیا ابھی تک کورونا وبا کے نتائج اور اس کے منفی اثرات سے باہر نہیں نکلی ہے جو اب بھی جاری ہیں.
جج عبدالسلام نے وضاحت کی کہ یہ تمام چیلنجز پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور لچکدار، پائیدار اور جامع شہروں کی تعمیر کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔لہٰذا، مذہبی اور کمیونٹی رہنمائوں اور اداروں کے طور پر، ہمیں موثر پروگرام تلاش کرنے اور مشترکہ کوششوں کو متحد کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ماحولیاتی اور سماجی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے بلند نظر حکمت عملی بنانا، اور ایسی نسلیں تیار کرنا جو ان چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے زیادہ باشعور اور قابل ہوں.
سکریٹری جنرل نے دنیا کی دو نمایاں مذہبی شخصيات، کیتھولک چرچ کے پوپ تقدس مآب پوپ فرانسس ، اور امام الاکبر ڈاکٹر احمد الطیب. شيخ الأزهر ، چیئرمین مسلم كونسل آف ایلڈرز کی قیادت میں عظیم کوششوں كو آگے بڑهانے کی اہمیت کی نشاندہی کی ؛ جنہوں نے مذہبی اور انسانی مکالمے میں ایک منفرد نمونہ پیش کیا.
اور جج عبدالسلام نے اشارہ کیا کہ مسلم کونسل آف ایلڈرز، امام الاکبر ڈاکٹر احمد الطیب. شيخ الأزهر ، چیئرمین مسلم كونسل آف ایلڈرز کی قیادت میں عالمی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہى ہے. اور انصاف اور مساوات کی اقدار کو برقرار رکھنے والے لچکدار، پائیدار، محفوظ اور مستحکم معاشروں کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہى ہے۔ اور ہر اس چیز سے بچانے میں جو انسانوں، ماحول اور اس سیارے کو نقصان پہنچاتی ہے جس پر ہم رہتے ہیں
