مسلم کونسل آف ایلڈرز، فضیلت مآب إمام أكبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الأزہر کی سربراہی میں، اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ انسانوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی- چاہے ان کے مذاہب، ثقافتیں یا نسلیں مختلف ہی کیوں نہ ہوں- معاشروں کے امن اور استحکام کی بنیادی ضمانت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا نئے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نے پرامن بقائے باہمی کے عالمی دن پر کے موقع پر جاری اپنے بیان میں کہا – جو اس سال پہلی مرتبہ 28 جنوری کو منایا جا رہا ہے- کہ بقائے باہمی کی ثقافت کا قیام باہمی احترام، مشترکہ انسانی وقار کو تسلیم کرنے اور نفرت انگیز تقریر، تشدد، اخراج اور اسلامو فوبیا کو مسترد کرنے پر مبنی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام آسمانی مذاہب اور الہامی شریعتیں اپنی بنیادی تعلیمات میں رحمت، عدل، امن، تعاون اور انسانی اخوت جیسے اقدار کو فروغ دینے کے لیے آئی ہیں۔
بیان میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ دنیا آج جنگوں، تنازعات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں اس امر کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کوششوں میں اضافہ کیا جائے، مکالمے کی ثقافت کو مضبوط کیا جائے، عوام اور اقوام کے درمیان رابطوں کے پل تعمیر کیے جائیں، اور نوجوان نسل کو بقائے باہمی، رواداری اور باہمی احترامِ جیسے اصولوں کو اپنانے کے لیے بااختیار بنایا جائے، تاکہ انتہاپسندی اور تشدد کے نظریات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نے مذہبی و فکری رہنماؤں، پالیسی سازوں، تعلیمی و میڈیا اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ پُرامن بقائے باہمی کی ثقافت کو فروغ دینے، مکمل شہری مساوات کی اقدار کو مضبوط کرنے، اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ایک زیادہ منصفانہ اور پُرامن دنیا تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں، جہاں انسانی وقار ہی تمام ترقیاتی و سماجی پالیسیوں کا محور ہو۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز طویل عرصے سے پُرامن بقائے باہمی، مکالمے، رواداری اور انسانی اخوّت کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔ اس سلسلے میں کونسل کی متعدد عالمی سطح پر کی جانے والی کوششیں شامل ہیں، جیسے: مشرق و مغرب کے درمیان مکالمہ، اسلامی دنیا کے اندرونی بین المذاہب و بین الافکار مکالمہ، نوجوان امن ساز فورم، اور مختلف علمی و فکری پروگرام اور مطبوعات جو دنیا بھر میں امن، احترام اور انسانیت کی اقدار کو فروغ دینے میں معاون ہیں، کونسل کے مطابق پُرامن بقائے باہمی ہی انسان کی کرامت کے تحفظ، معاشرتی امن کے قیام اور پائیدار ترقی کا بہترین راستہ ہے۔
