قاہرہ بین الاقوامی کتاب میلہ کے 57ویں ایڈیشن میں، مسلم کونسل آف ایلڈرز کے پویلین نے اپنی ساتویں ثقافتی نشست کا انعقاد کیا، جس کا عنوان تھا: "انسان کی خدمت میں فقہی اور سائنسی معرفت کا تکامل کیسے ممکن ہے؟”اس نشست میں پروفیسر ڈاکٹر عباس شومان، الازہر کے سینئر علما کی کونسل کے سیکرٹری جنرل، اور پروفیسر ڈاکٹر محمود صدیق، نائب صدر جامعۃ الأزہر، نے شرکت کی، جبکہ نشست کی نظامت پروفیسر ڈاکٹر علی مہدی، سینئر علما کی کونسل کے سیکرٹری نے انجام دی۔
اس گفتگو میں شرعی علوم اور جدید سائنسی معارف کے درمیان تکامل کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، اور یہ واضح کیا گیا کہ یہ ہم آہنگی انسان کی فلاح، متوازن تہذیبی شعور کی تشکیل، دینی اقدار اور عصری تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنے، اور انسانی ترقی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر عباس شومان نے کہا کہ شریعت اسلامی اور مختلف علوم کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ دینی اور دنیاوی علوم ایک دوسرے سے جدا نہیں، اور یہ کہ فتویٰ کئی دیگر علوم جیسے معاشیات اور طب سے جڑا ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فقہ بعض اوقات فیصلہ سازی میں سائنسی شعبوں کے ماہرین کی آراء سے رہنمائی لیتی ہے، اور اسلامک ریسرچ اکیڈمی کی مثال پیش کی، جہاں شرعی اور علمی دونوں شعبوں کے ماہرین شامل ہیں، جو عصرِ حاضر کے مسائل کا جامع اور باشعور فقہی حل پیش کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
اپنی گفتگو میں ڈاکٹر محمود صدیق نے کہا کہ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی علوم کے درمیان تکامل کی ترغیب دیتے ہیں۔
انہوں نے اس نبوی رہنمائی کی مثال دی کہ "مریض کو تندرست شخص کے ساتھ نہ ملایا جائے”، جو آج کی جدید طبی تحقیق اور وباؤں سے بچاؤ کی پالیسیوں کے عین مطابق ہے۔
نائب صدر جامعۃ الأزہر نے مزید وضاحت کی کہ حیاتی علوم، خاص طور پر طبی علوم، فقہی اصولوں کے ساتھ مل کر انسان کی صحت اور زندگی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی فقیہ ڈاکٹر کے عمل کے لیے اصولی حدود متعین کرتا ہے، جب کہ فقیہ خود فتویٰ دینے سے پہلے طبی و سائنسی ماہرین کی رائے کا محتاج ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامک ریسرچ اکیڈمی میں فقہاء طبی، وراثتی، معاشی اور دیگر جدید علوم کے ماہرین کی آراء سنتے ہیں اور ان کے ساتھ مفصل مباحثہ کرتے ہیں، جس کے بعد ہی فتاویٰ اور معاصر مسائل پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ طریقہ کار اسلامی فکر کی اصل، اس کی وسعت اور مختلف علوم کے ساتھ اس کے مثبت تعامل کی بہترین مثال ہے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز 21 جنوری تا 3 فروری 2026 تک جاری رہنے والے اس میلے میں ایک خصوصی پویلین کے ساتھ شریک ہے، جس میں کونسل کی معیاری اور نادر مطبوعات پیش کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف سیمینارز، علمی نشستیں اور ثقافتی سرگرمیاں بھی ترتیب دی گئی ہیں، جن کا مقصد خیر، محبت، امن اور بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینا ہے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز کا پویلین، قاہرہ بین الاقوامی کتاب میلے میں الازہر الشریف کے پویلین کے بالمقابل، ہال نمبر 4 (ہال التراث) میں، مصر بین الاقوامی نمائش و کانفرنس سینٹر، التجمع الخامس میں واقع ہے۔
