مسلم کونسل آف ایلڈرز، فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف کی سربراہی میں، اس بات پر زور دیتی ہے کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور تعلیمی عمل میں انہیں مؤثر شراکت دار کے طور پر شامل کرنا باخبر، باہم مربوط اور مضبوط معاشروں کی تشکیل کے لیے ایک بنیادی راستہ ہے، جو امن، بقائے باہمی اور باہمی احترام جیسی اقدار کو مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نے عالمی یومِ تعلیم کے موقع پر جاری اپنے بیان میں کہا- جو ہر سال 24 جنوری کو منایا جاتا ہے اور اس سال “تعلیم کی تشکیل میں نوجوانوں کی شرکت کی قوت” کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے- کہ تعلیم ایک انسانی اور اخلاقی منصوبہ ہے، جس کا مقصد انسان کی تعمیر، اس کے شعور کی نشوونما، اور اس کی تنقیدی سوچ، مکالمے اور ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیتوں کو جِلا بخشنا ہے۔ اسی تناظر میں، تعلیمی تصورات کی تیاری، نصاب کی ترقی اور تعلیمی پالیسیوں کی تشکیل میں نوجوانوں کی شمولیت، ایک زیادہ جامع اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کی ضمانت کے لیے نہایت اہم قدم ہے۔
کونسل نے نوجوانوں کی فکری اور تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور استفادے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ انہیں اظہار اور شرکت کا موقع فراہم کرنا، تعلیم کو اقدار کی تعمیر، مثبت اختلاف کی ثقافت کے فروغ اور انسانی اخوت کے اصولوں کے استحکام کا ایک مؤثر ذریعہ بنا دیتا ہے۔
امن کے فروغ، انتہاپسند فکر اور نفرت انگیز خطابات کے مقابلے کے اپنے پیغام سے ہم آہنگ ہو کر، مسلم کونسل آف ایلڈرز اُن تعلیمی اور فکری اقدامات کو خصوصی اہمیت دیتی ہے جو نوجوانوں کو ہدف بناتے ہیں، انہیں فکری اور اخلاقی طور پر بااختیار بناتے ہیں، اور اس طرح تیار کرتے ہیں کہ وہ دانائی اور ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ اپنے معاشروں میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔
کونسل اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ اقدار، شراکت اور مکالمے پر مبنی تعلیم میں سرمایہ کاری درحقیقت پوری انسانیت کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، اور یہ کہ تعلیم کی تشکیل میں نوجوانوں کو شریک بنانا ایک زیادہ عادلانہ، باہمی فہم پر مبنی اور پُرامن دنیا کی تعمیر کی جانب ایک مرکزی قدم ہے۔
