Muslim Elders

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے پویلین میں کتاب «امام طیب کے محراب میں» کے پہلے ایڈیشن کی رونمائی

قاہرہ بین الاقوامی کتاب میلے کے 57ویں ایڈیشن میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کے پویلین پر ایک بھرپور ثقافتی نشست منعقد ہوئی، جس کا عنوان تھا: «امام الطیب کے محراب میں… فضیلت مآب امامِ اکبر کو پیش کی جانے والی تصنیفات کا مطالعہ»۔ اس نشست میں علّامہ شیخ حسن الشافعی، الازہر کے سینئر علما کی کونسل کے رکن اور مسلم کونسل آف ایلڈرزکے رکن کے ساتھ پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالرحمن الضوینی، نائب الازہر الشریف نے شرکت کی۔
جبکہ اس نشست کی نظامت ڈاکٹر سمیر بودینار (ڈائریکٹر، الحکما سینٹر فار پیس ریسرچ) نے کی، اس منفرد علمی و انسانی دستاویزی کام کے پہلے ایڈیشن کی رونمائی کے لیے منعقد کی گئی۔ یہ کتاب ممتاز دینی قائدین، مفکرین اور عالمی شخصیات کی تحریر کردہ تحریروں اور تاثرات پر مشتمل ہے، جو فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر بطورِ ہدیہ پیش کی گئی ہیں۔
کتاب میں شامل بین الاقوامی شہادتوں کا تنوع اس بلند عالمی مقام کی عکاسی کرتا ہے جو فضیلت مآب امامِ اکبر کو بطور ایک عالمی اخلاقی ضمیر، ایک پُرآشوب دنیا میں حکمت کی آواز، اور اعتدال، مکالمے اور انسانی بقائے باہمی کی علامت کے طور پر حاصل ہے۔ یہ کتاب محض ایک شخصیت کی تکریم نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی و فکری مکتبِ فکر کی دستاویز ہے، جسے امام الطیب نے دہائیوں پر محیط علم، حکمت، اعتدال، مکالمے، انسانی وقار کے دفاع اور انسانی اخوت و عالمی امن کی اقدار کے فروغ کے ذریعے مجسم کیا۔

قدردانی سے بھرپور اپنے خطاب میں علّامہ شیخ حسن الشافعی نے اس بات پر زور دیا کہ فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف نے نہایت کٹھن حالات میں حکمت، اعلیٰ اخلاق اور ذمہ داری کے احساس کی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ عرب اور مسلمان دنیا میں امام الطیب کی راسخ مقامیت محض اتفاق نہیں، بلکہ خلوص اور مسلسل عطا و خدمت سے بھرپور ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

شیخ الشافعی نے اس بات سے بھی پردہ اٹھایا جسے انہوں نے “امام الطیب کی عطا کا راز” قرار دیا، اور اسے چند بنیادی نکات میں سمیٹا، جنہوں نے ان کی غیر معمولی شخصیت کی تشکیل کی: علم سے گہرا شغف اور سچی محبت، علم کے حصول اور اشاعت میں کامل اخلاص، جامعۂ الازہر الشریف اور اس کی تاریخ سے بے پناہ وابستگی، خدا کا مسلسل خوف اور آخرت کی طرف رجوع، دنیاوی لذتوں اور عارضی مناصب سے بے رغبتی، اور صوفیانہ تربیت جو علم کی قدر بڑھاتی اور دنیا و مال کی حیثیت گھٹاتی ہے۔

اپنی گفتگو کے آغاز میں ڈاکٹر محمد عبدالرحمن الضوینی نے شیخ الازہر کو “باشعور اور راہنما فتویٰ” کا حامل قرار دیا، اور کہا کہ جب امام الطیب کسی فقہی یا سماجی مسئلے پر گفتگو کرتے ہیں تو گہری بصیرت کے ساتھ حال کا ادراک اور مستقبل کی پیش بینی کرتے ہیں، اور وطن و امت کے مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں، یہاں تک کہ ان کا قول “ایسا سلام بن گیا جس سے کسی کو رنج نہ ہو”۔
نائب الازہر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ امام الطیب نے نہایت پیچیدہ بین الاقوامی حالات میں منصبِ شیخ الازہر سنبھالا، جب اسلام کو بے بنیاد الزامات کا سامنا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے مشرق سے مغرب تک دنیا کا سفر کیا اور جرات و استقامت کے ساتھ اسلاموفوبیا کے خدشات کو زائل کیا، یہاں تک کہ یورپ نے ازہر کے اعتدال پسند منہج کی طرف رجوع کیا۔

ملکی سطح پر ڈاکٹر الضوینی نے فرقہ وارانہ فتنوں کے خاتمے میں امام الطیب کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:
“امام الطیب نے جرات کے ساتھ ‘مصری فیملی ہاؤس’ کے قیام میں کردار ادا کیا، جس نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو تمام فرقوں سمیت ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، اور یوں تعصب کی آوازیں ماند پڑ گئیں۔”

انہوں نے اس بات کی بھی طرف توجہ دلائی کہ امام الطیب نے “اقلیتوں” کی اصطلاح کے بجائے “مکمل شہریت” کی اصطلاح اپنانے کی دعوت دی، جو مذہب یا نسل کی بنیاد پر کسی تفریق کے بغیر سب کو اپنے دامن میں سمیٹتی ہے۔
ڈاکٹر الضوینی نے امام الطیب کی شخصیت کے انسانی اور انتظامی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہ ادارے کو نرمی اور رحمت کے ساتھ – بغیر کمزوری کے- اور حق کے معاملے میں سختی کے ساتھ – بغیر درشتی کے-چلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام الطیب کا دفتر ہمیشہ سب کے لیے کھلا رہتا ہے اور وہ اپنے معاونین کو تاکید کرتے ہیں:“لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے نہ روکو، اور جو میرے پاس آئے اسے واپس نہ لوٹاؤ۔”

نائب الازہر نے اپنی گفتگو کا اختتام امام الطیب کی ایک عظیم بین الاقوامی کامیابی کے ذکر پر کیا: الازہر کی جانب سے (مشیر محمد عبدالسلام کے تعاون سے) مکالمے، رواداری اور مشترکہ بقائے باہمی کے فروغ کی مسلسل کوششیں، جو بالآخر 2019 میں ابو ظبی میں مرحوم پوپ فرانسس (سابق پوپِ کیتھولک چرچ) کے ساتھ تاریخی “دستاویزِ اخوتِ انسانی” کے اجرا پر منتج ہوئیں۔ یہ دستاویز مشرق و مغرب کے درمیان مکالمے کی بنیاد بن گئی اور انسانی وقار کو عالمی رابطے کی اساس کے طور پر مستحکم کیا۔

واضح رہے کہ مسلم کونسل آف ایلڈرز، قاہرہ بین الاقوامی کتاب میلے کے 57ویں ایڈیشن میں 21 جنوری سے 3 فروری 2026 تک ایک خصوصی پویلین کے ساتھ شریک ہے۔ اس پویلین میں کونسل کی متعدد ممتاز اشاعتیں پیش کی جا رہی ہیں، نیز مختلف علمی نشستیں، سرگرمیاں اور تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد خیر، محبت، امن اور مشترکہ انسانی بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینا ہے۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز کا پویلین، قاہرہ بین الاقوامی کتاب میلے میں الازہر الشریف کے جناح کے بالمقابل، ہال نمبر 4 (ہال التراث) میں، مصر بین الاقوامی نمائش و کانفرنس سینٹر، التجمع الخامس میں واقع ہے۔