شیخ الأزہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، نے بحرین میں اسلامی اسلامی مکالمہ کانفرنس کے دوران اپنے خطاب میں کہا:
اسلامی – اسلامی مکالمہ کانفرنس ایسے انتہائی نازک موڑ پر منعقد ہو رہی ہے، جب امت اسلامیہ ایک بے رحم طوفان کا سامنا کرتے ہوئے ایک چوراہے پر کھڑی ہے۔
اسلامی – اسلامی مکالمہ کانفرنس کا مقصد امت کو خطرات سے محفوظ رکھنا اور امت کو درپیش خطرات سے بچایا جا سکے۔
تحقیقات جو بین المسالک تقریب کے موضوع پر توجہ مرکوز کرتی ہیں ، وہ صرف نظریاتی بحث کے دائرے میں ہیں، وہ عملی میدان میں اترنے اور اسے مسلم معاشروں کی حقیقت پر نافذ کرنے کے طریقے کی وضاحت نہیں کرتیں۔
عصر حاضر کے چیلنجوں اور مسلسل بحرانوں کا مقابلہ کرنے کا کوئی راستہ نہیں سوائے اسلامی ریاستوں کے اتحاد کے جو کسی بھی فریق کو خارج کیے بغیر امت اسلامیہ کے تمام اجزاء کے درمیان رابطے کے راستے ہموار کریں۔
شيخ الأزبر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز تمام اسلامی مکاتب فکر کے درمیان اتحاد، افہام و تفہیم اور واقفیت کے قیام کے لیے ایک سنجیدہ اور قابل عمل منصوبہ تیار کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
شيخ الأزبر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز ایک مستقل مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں جس میں خاص طور پر فرقہ وارانہ اور نسلی تنازعات کی وجوہات کو مسترد کیا جائے اور جس میں اتفاق اور ہم آہنگی کے نکات پر توجہ دی جائے۔
شيخ الأزبر نے امت کو تاریخی اور موجودہ تنازعات کی تمام پیچیدگیوں اور منفی اثرات پر قابو پانے کی دعوت دی۔
شيخ الأزبر نے مسلمانوں کو فتنے کے داعیوں سے خبردار کیا اور کہا کہ وہ قومی استحکام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے جال میں نہ پھنسیں۔
شيخ الأزبر نے مسلمانوں کو تیز ہواؤں اور تباہ کن طوفانوں میں ثابت قدم رہتے ہوئے اپنی ضروریات زندگی اور اپنی بقا کے لئے ضروری اتحاد قائم کرنے کی دعوت دی۔
شيخ الأزبر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز نے فلسطینیوں کی بے دخلی کے معاملے پر امّت کے رہنماؤں اور عوام کے قابل احترام موقف کو سراہا۔
شیخ الازہر نے بحرین میں اسلامی اسلامی مکالمہ کانفرنس میں شریک علماء کے سامنے "اہل قبلہ کا آئین” کی تجویز پیش کی۔
فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ اہل سنت اور شیعوں کے درمیان ” تقریب” ایک طویل عرصے سے امّت کے علما کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہے اور وہ مسلم معاشروں میں اسے مسلسل یاد دلانے اور اسے اپنے ذہنوں میں مستحکم کرنے اور اسے ابھارنے کے خواہاں ہیں۔ بلکہ جب بھی فرقہ واریت اور اختلاف کی وجوہات اپنا قبیح سر اٹھاتی ہیں اور ان کی وحدت سے کھیلتی ہیں اور ان کے استحکام اور امن کو خراب کرتی ہے تو یہ ان کے وجدان اور احساسات میں موجود رہتا ہے۔ اور اس کے باوجود، « بین المسالک تقریب» کا موضوع اب بھی کھلا ہے جیسے کہ اسے پہلے کبھی قلم نے نہ چھوا ہو۔ اور اس کی وجہ – سب سے زیادہ امکان ہے – کہ جو تحقیقات بین المسالک تقریب کے موضوع پر توجہ مرکوز کرتی ہیں ، وہ صرف نظریاتی بحث کے دائرے میں ہیں، وہ عملی میدان میں اترنے اور اسے مسلم معاشروں کی حقیقت پر نافذ کرنے کے طریقے کی وضاحت نہیں کرتیں۔
فضیلت مآب امام اکبر نے اسلامی اسلامی مکالمہ کانفرنس جو "ایک امت.. ایک مشترکہ منزل” کو عنوان سے «منامہ – بحرین» میں اپنے خطاب میں کہا: قاہرہ میں "دار التقريب” نے الازہر کی نگرانی میں اس کے علماء، پروفیسروں اور امامی شیعوں کے حوالہ جات کی نگرانی میں نو جلدوں میں "پیغام اسلام” کے عنوان سے ایک رسالہ جاری کیا جس کے صفحات چار ہزار صفحات سے تجاوز کر گئے ور اس میں 1949 سے 1957 تک آٹھ سال کے وقت کا احاطہ کیا گیا ہے، ان درجنوں تحقیقوں، کتابوں اور یونیورسٹیوں کے مقالوں کے علاوہ جو پرنٹنگ پریس کے ذریعے مصر، عراق، ایران، لبنان میں نشر کی گئیں ہیں اور یہاں تک کہ مغربی یورپی یونیورسٹیوں میں پبلشنگ ہاؤسز نے مختلف زبانوں میں بھی ان کو نشر کیا۔
امام اکبر نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم ایک حقیقی بحران میں ہیں جس کی قیمت مسلمان جہاں بھی ہیں اور جہاں بھی ہوں اس کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہووے کہ عصر حاضر کے چیلنجوں اور مسلسل بحرانوں کا مقابلہ کرنے کا کوئی راستہ نہیں سوائے اسلامی ریاستوں کے اتحاد کے جو کسی بھی فریق کو خارج کیے بغیر امت اسلامیہ کے تمام اجزاء کے درمیان رابطے کے راستے ہموار کریں۔ اور ریاستوں کے معاملات، سرحدوں، خودمختاری اور علاقوں کا احترام کرتے ہوئے۔
شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ بابرکت کانفرنس تمام اسلامی مکاتب فکر کے درمیان اتحاد، افہام و تفہیم اور واقفیت قائم کرنے اور ایک مستقل مکالمے کے لئے ایک سنجیدہ اور قابل عمل منصوبہ پیش کرے گی جس میں خاص طور پر تقسیم، تنازعات اور نسلی و فرقہ وارانہ تنازعات کی وجوہات کو مسترد کرے اور اتفاق اور ہم آہنگی کے نکات پر توجہ مرکوز کرے۔ اور اس کی قراردادوں میں اس سنہری قاعدے کا ذکر ہو جو کہتا ہے: جس چیز پر ہم متفق ہیں اس میں تعاون کریں اور جس چیز پر ہم اختلاف کرتے ہیں اس میں ایک دوسرے کو معاف کریں۔ اس میں باہمی نفرت انگیز تقاریر اور ایک دوسرے کو فاسق بدعتی اور کافر قرار دینے کے طریقوں کو روکنے کا بھی ذکر ہو۔ اور تاریخی اور معاصر تنازعات کو ان کی تمام پیچیدگیوں اور منفی اثرات پر قابو پانے کی بھی ضرورت شامل ہو۔ اور یہ کہ سب لوگ صاف دلوں اور کھلے ہاتھوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے جمع ہوں، اور ماضی کے صفحے کو عبور کرنے اور اسلامی امور کو فروغ دینے کی حقیقی خواہش رکھیں.اور فتنے کے داعیوں سے خبردار کرے اور قومی استحکام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے جال میں نہ پھنسیں، جو فرقہ واریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور ایک ہی ملک کے شہریوں کے درمیان تقسیم پیدا کرتے ہیں تاکہ اس کی سیکیورٹی، سیاسی اور سماجی استحکام کو متاثر کیا جا سکے۔ یہ سب ایسے گھناؤنے جرائم ہیں جن کی اسلام مذمت کرتا ہے اور انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی اصولوں نے انہیں مسترد کر دیا ہے
فضیلت مآب امام اکبر نے کہا کہ ہمیں اپنے معاصرین کے تجربات سے سیکھنا چاہیے جو ہمیں اس بات کی تحریک دیتے ہیں کہ ہم ایک باہمی تعاون پر مبنی اسلامی «اتحاد» قائم کریں جو اس قوم کے حقوق کا دفاع کرے اور اس امّت کے لوگوں کو ظلم، تکبر اور جبر سے بچائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یورپ اپنے ستائیس ممالک کی عوام کا دفاع کرنے، اپنے امن و استحکام کو فروغ دینے، اپنے وجود اور تشخص کو کچلنے اور تحلیل ہونے سے بچانے، معاشی ترقی حاصل کرنے اور اپنے بچوں کی جمہوریت کی حفاظت کرنے کا کوئی راستہ تلاش نہیں کر سکا ہے، باوجود اس کے کہ اس کی مختلف نسلوں اور زبانوں کی کثرت، جو چوبیس زبانوں سے تجاوز کر چکی ہے، اور مذہبی اور نظریاتی عقائد کی کثرت کے باوجود جو کم از کم چند عقائد، رسومات اور روایات میں ملتے ہیں۔ اگر غیر مسلم بہت سی رکاوٹوں کے باوجود ایک ایسا "اتحاد قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جس کا وہ وہ اپنی سیاسی اقتصادی اور ثقافتی لڑائیوں میں سہارا لیتے ہیں۔ تو آج مسلمان تیز ہواؤں اور تباہ کن طوفانوں میں ثابت قدم رہتے ہوئے اپنی ضروریات زندگی اور اپنی بقا کے لئے ضروری اتحاد قائم کرنے سے کیوں قاصر ہیں۔ ایک ایسا اتحاد جو مشترکات اور اصولوں پر مبنی ہو جو جغرافیہ ، تاریخ ، صنف ، زبان ، مذہب ، ورثہ ، ثقافت اور مشترکہ منزل کے لحاظ سے دوسری قوموں کو میسر نہیں۔
شیخ الأزہر نے امّت کے اتحاد کی ضرورت کو اس بات سے ثابت کیا کہ فلسطینی مسئلے کو جن خطرات کا سامنا ہے،
اس کے بیٹوں کے خلاف اور درحقیقت پوری امّت کے خلاف سازش اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ غزہ میں اس کے بیٹوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہووے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے ہماری عرب اور اسلامی اقوام یعنی عوام اور رہنماؤں کو متحد اور باوقار مقام پر پہنچا دیا۔ جنہوں نے اس بابرکت سرزمین کے لوگوں کے خلاف اس صریح ناانصافی اور جارحیت کو مسترد کیا ہے، اور ہمسایہ مسلم ممالک کی خودمختاری کی حمایت کی ہے، جو ایک حوصلہ افزاء پوزیشن ہے جو اسلامی صفوں کے اتحاد کی امید کو بحال کرتی ہے۔
شیخ الازہر نے بحرین میں اسلامی اسلامی مکالمہ کانفرنس میں شریک علماء کے سامنے ایک تجویز پیش کی جس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ یہ ضروریات کا معاملہ ہے نہ کہ بہتری کا معاملہ، یعنی: مختلف فرقوں کی نمائندگی کرنے والے اور اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے امّت کے عظیم علماء ایک "چارٹر” یا "آئین” تیار کرسکتے ہیں جسے ہم "اہل قبلہ کا آئین” کہہ سکتے ہیں، یا: "اسلامی اخوت” جس میں یہ صحیح حدیث سر فہرست ہو :”جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہماری طرح قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا تو وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی پناہ ہے۔ پس تم اللہ کے ساتھ اس کی دی ہوئی پناہ میں خیانت نہ کرو”۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ امام شیخ ابو زہرہ اس تجویز کی طرف پہلے ہی اشارہ کر چکے ہیں، انہوں نے اس آئین کے اصولوں کی تعداد بتائی اور انہیں واضح کیا، اور حاضرین سے اس تجویز کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی درخواست ہے۔
شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اس عظیم کانفرنس کی میزبانی کرنے پر شاہ بحرین حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کا شکریہ ادا کیا۔ جو ایک انتہائی نازک موڑ پر منعقد ہو رہی ہے، جب امت اسلامیہ ایک بے رحم طوفان کا سامنا کرتے ہوئے ایک چوراہے پر کھڑی ہے، جو پندرہ صدیوں کی تہذیب کو مٹا دینے اور اسے اس کی بنیادوں سے اکھاڑ پھینکنا چاہتا ہے۔ امام اکبر نے عزت مآب شاہ بحرین اور ان کے ارد گرد کے لوگوں کی اس «دلچسپی» کی قدردانی کی جو وہ عربی اور اسلامی امّت کے معاملے میں رکھتے ہیں ۔ اور اس ذہانت کی تاکہ امت کو ان خطرات سے محفوظ رکھ کے لیے منعقد ہورہی ہے جو اس کے زوال، تباہی اور خاتمے کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ وہ خطرات ہیں جن کی ابتدائی علامات ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں اور جن کے شعلے ہم پہلے ہی محسوس کر چکے ہیں، اور ہم نہیں جانتے کہ ابھی کیا ہونا باقی ہے۔
