مسلم كونسل آف ایلڈرز کے رکن علامه سید علی الامین نے انسانی بھائی چارے کی بنیاد پر بقائے باہمی کے بحرینی ماڈل کی تعریف کی جو فرقوں، قوموں، مذاہب اور اديان کو متحد کرتا ہے، اور اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ سلطنت بحرین اپنے شہریوں کے مذہبی اور فرقہ وارانہ وابستگیوں سے قطع نظر ان تعلقات کے لیے ایک ماڈل تشکیل دیتا ہے۔
آپ نے اس بات پر زور دیا کہ بحرین فورم برائے مکالمہ: (مشرق اور مغرب برائے انسانی بقائے باہمی) کا انعقاد ابوظہبی میں کیتھولک چرچ کے پوپ، تقدس مآب پوپ فرانسس، اور أمام الأكبر ڈاکٹر۔ احمد الطیب، شيخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز کى جانب سے دستخط شدہ انسانی بھائی چارے کی دستاویز میں درج اقدار کے فروغ اور استحکام کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ، جسے ایک عالمگیر آئین سمجھا جاتا ہے جو انسانیت کے لیے افراد، لوگوں، گروہوں اور قوموں کے درمیان امن اور احترام کے ساتھ برادرانہ بقائے باہمی کی تصویر پیش کرتا ہے۔
علامه سيد علي الأمين نے وضاحت کی کہ بحرین فورم فار ڈائیلاگ اور اس سے سامنے آنے والی مشترکہ سفارشات اور تعلیمات لوگوں کے درمیان رواداری اور پرامن بقائے باہمی کے کلچر کو پھیلانے میں معاون ثابت ہوں گى جس کے ذریعے دنیا برائیوں، سانحات اور جنگوں کی لعنتوں سے بچ سكتى ہے اور انسانیت جن مسائل سے دوچار ہے ان کے حل کے لیے اسے دوری اور تنازعات سے یکجہتی اور تعاون کی طرف لے جاسكتى ہے ۔ اس طرح غریبوں کی مدد کے لیے کام کرنا یہ ان کے اور امیر کے درمیان فاصلوں کو ختم کرتا ہے، جہالت اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرتا ہے، اور اس طرح دنیا کے تمام لوگوں اور ممالک کے لیے مسلسل ترقی، امن، سلامتی اور تحفظ كى ضمانت فراهم کرتا ہے۔
مملکت بحرین بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کی سرپرستی میں جمعرات اور جمعہ 3 اور 4 نومبر کو بحرین فورم برائے مکالمہ "مشرق اور مغرب مکالمہ برائے انسانی بقائے باہمی” کے انعقاد کی تیاری کر رہی ہے۔ جس میں أمام الأكبر ڈاکٹر احمد الطیب، شيخ الازہر الشریف ، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز اور کیتھولک چرچ کے پوپ تقدس مآب پوپ فرانسس، اور دنیا بھر سے تقریباً 200 مذاہب کے نمائندے، رہنماؤں اور شخصیات کے ساتھ ساتھ متاز دانشور اور میڈیا کےنمائندے شركت كریں گے.
