Muslim Elders

روم میں "مذاہب، مکالمہ اور امن” کے آٹھویں فورم میں شرکت کے دوران مسلم کونسل اف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل نے كہا: مذاہب کبھی بھی جنگوں کا پیغام نہیں دیتے بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن کا پیغام دیتے ہیں

muslimelderspakistan

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل جج محمد عبدالسلام نے اس بات کی تصدیق کی کہ مذاہب کبھی بھی جنگوں، تصادم اور تنازعات کا ذريعه نہیں رہے بلکہ، یہ پوری انسانیت کے لیے سلامتی، امن اور استحکام کے ساتھ مل جل کر رہنے کا پیغام دیتے ہیں، اس بات پر زورتے ہوئے کہا کہ مکالمے کی اقدار کو برقرار رکھنے اور ہمارے درمیان انسانی مشترکات تلاش کرنے اور بچوں اور نوجوانوں کے دلوں میں صحیح مذہبی رجحان کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں انتہا پسندی، نفرت، جنون اور تعصب پر مبنى بیان بازی کا شکار بننے سے بچانے کی ضرورت ہے۔

اٹلی کے شہر روم میں منعقد ہونے والے "مذاہب، مکالمہ اور امن” کے آٹھویں فورم کی سرگرمیوں کے دوران جج عبدالسلام نے اپنی تقریر میں کہا: کچھ لوگ سیاسی مقاصد اور انفرادی مفادات کے لیے مذاہب کی تعلیمات سے انحراف کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مذاہب کو رواداری کے پیغام سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلکہ وہ اس کی تعلیمات کو تنازعات، جنگوں، تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں، پر امن افراد کو خوفزدہ کرنے، نفرت پھیلانے، عدم برداشت، دوسروں کے خلاف امتیازی سلوک اور انہیں قبول کرنے یا پہچاننے سے انکار کرنے کا سبب بناتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے وضاحت کی کہ امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، اور کیتھولک چرچ کے پوپ مقدس پوپ فرانسس، نے اس خطرے سے نمٹنے کے لئے انہوں نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی سے مشترکہ طور پر انسانی بھائی چارے کی تاریخی دستاویز پر دستخط کرکے انسانیت سے مشترکہ اپیل کا آغاز کیا۔

جج عبدالسلام نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امام الطیب اور پوپ فرانسس نے اس دستاویز میں مذاہب کو ہر قسم کی انتہا پسندی، نفرت، جنونیت اور امتیازی سلوک سے بری ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اور نفرت، تشدد، انتہا پسندی اور اندھی جنونیت کو ہوا دینے کے لیے مذاہب کا استعمال بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، اور یہ وہ دعوت ہے جس کی بنا پر ہم سب کو آگے بڑھنا چاہیے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ہم سب ایک انسانی خاندان کے افراد ہیں۔ تا کہ سب کے دلوں میں بھائی چارے، محبت اور امن کی اقدار کو اجاگر کیا جا سکے اور باہمی احترام کی ثقافت کو فروغ دیا جاسکے۔