مسلم کونسل آف ایلڈرز سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں 6 اور 7 جولائی 2026 کو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے "مصنوعی ذہانت کی گورننس پر عالمی مکالمے” کے پہلے اجلاس میں شرکت کی۔ اس اہم عالمی فورم میں حکومتی رہنما، اقوامِ متحدہ کے عہدیداران، نجی شعبے کے نمائندگان، ماہرینِ تعلیم اور سول سوسائٹی کے ادارے شریک ہیں، تاکہ بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور مصنوعی ذہانت کی گورننس کے لیے عالمی فریم ورک پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکریٹری جنرل مشیر محمد عبدالسلام نے اس موقع پر کہا کہ آج دنیا انسانیت کے سفر کے ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے لیے ایسی جامع نظام سازی کی ضرورت ہے جو انصاف، ذمہ داری، شفافیت اور انسانی وقار کے تحفظ کے اصولوں پر قائم ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر سائنسی اور تکنیکی ترقی کا مرکز اور مقصد انسان ہونا چاہیے، اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے امن، ترقی اور انسانی خوشحالی کو فروغ ملنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز کی سربراہی میں،الازہر الشریف اور کونسل اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے مصنوعی ذہانت کے اخلاقی پہلو کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔ اس مقصد کے تحت ایک عالمی اخلاقی منشور برائے مصنوعی ذہانت تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں، کیونکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی اس وقت تک اپنے حقیقی انسانی مقاصد حاصل نہیں کر سکتی جب تک وہ مشترکہ اخلاقی اور انسانی اقدار پر مبنی نہ ہو۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز کی یہ شرکت اس کے اس مشن کا حصہ ہے جس کا مقصد مشترکہ انسانی و اخلاقی اقدار کو فروغ دینا اور ان بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرنا ہے جو مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی خدمت، انسانی وقار کے تحفظ، اور امن و پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے استعمال کرنے پر زور دیتی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فیصلے کے تحت قائم کیا گیا عالمی مکالمہ برائے مصنوعی ذہانت گورننس ایک جامع بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد عالمی تعاون، تجربات کے تبادلے اور مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں کھلے، شفاف اور جامع مکالمے کو فروغ دینا ہے۔ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد دنیا کے تمام ممالک اور عوام تک پہنچیں اور پالیسی سازی میں صرف تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں بلکہ تمام ممالک کی ترجیحات کو مدنظر رکھا جائے۔
یہ عالمی مکالمہ ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی 2026 اور "اے آئی فار گڈ” (AI for Good) عالمی سربراہی اجلاس کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے، جس سے ایک زیادہ منصفانہ، جامع اور انسان دوست ڈیجیٹل مستقبل کی تعمیر کے لیے عالمی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔
