جنیوا میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی "مصنوعی ذہانت بطور عالمی عوامی منفعت 2026” میں شراکت دار کے طور پر شرکت کرتے ہوئے، مسلم کونسل آف ایلڈرز نے گلوب ایتھکس فاؤنڈیشن کے تعاون سے ایک اعلیٰ سطحی نشست کا انعقاد کیا، جس کا عنوان تھا: "مصنوعی ذہانت بطور عالمی عوامی منفعت: مذہبی رہنما اور صنعت کے ماہرین کیا سوچتے ہیں؟”
یہ سمٹ کی تاریخ کا پہلا ایسا پروگرام تھا جس میں مذہبی قیادت اور ٹیکنالوجی کی صنعت کے نمایاں رہنماؤں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا تاکہ مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اور انسانی پہلوؤں پر گفتگو کی جا سکے، اور اس بات پر غور کیا جا سکے کہ مشترکہ انسانی اقدار کس طرح اس ٹیکنالوجی کی سمت متعین کر سکتی ہیں تاکہ یہ انسان اور معاشرے کی خدمت کر سکے۔
اس نشست میں مذہبی رہنماؤں، ٹیکنالوجی کے ماہرین، مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات کے متخصصین، بین الاقوامی اداروں اور صنعتی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ایسی عالمی حکمرانی (گورننس) کے قیام کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا جو انسانی وقار، ذمہ داری، شفافیت اور باہمی اعتماد پر مبنی ہو، تاکہ مصنوعی ذہانت ہمیشہ انسانیت اور اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال ہو۔
نشست کی نظامت ڈاکٹر فادی ضو، ایگزیکٹو ڈائریکٹر گلوب ایتھکس فاؤنڈیشن، نے کی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی ایک اجتماعی ذمہ داری پیدا کرتی ہے جس کے تحت مذہبی رہنماؤں، حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، جامعات اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسے منصفانہ اور جامع ضابطہ جاتی فریم ورک تیار کرنے ہوں گے جو انسان کو مرکزِ توجہ بنائیں۔
الیساندرا سالا، سربراہ برائے اے آئی معیاراتی تعاون اور ملٹی میڈیا مواد کی صداقت، نے اخلاقی اصولوں اور ادارہ جاتی عمل کے درمیان فاصلے کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقدار کو عملی پالیسیوں اور کاروباری ماڈلز میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ جب اداروں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اخلاقی طرزِ عمل اعتماد پیدا کرتا ہے اور دیرپا قدر تخلیق کرتا ہے، تو وہ ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے زیادہ سنجیدہ اقدامات کرتے ہیں۔
دوسری جانب ڈاکٹر برائن پیٹرک گرین، سانتا کلارا یونیورسٹی کے مارکولا سینٹر برائے اپلائیڈ ایتھکس میں ٹیکنالوجی اخلاقیات کے ڈائریکٹر اور ویٹی کن کے نمائندے، نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل انسان کی حقیقت اور معنویت کے گہرے فہم سے وابستہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مؤثر اے آئی گورننس کے لیے فکری، مذہبی اور سائنسی روایات سے استفادہ ضروری ہے، اور مذہبی رہنماؤں اور صنعت کے ماہرین کے درمیان مکالمہ قابلِ عمل پالیسیوں اور عملی نتائج پر منتج ہونا چاہیے۔
اسی طرح ڈاکٹر چِنمے پانڈیا، بین المذاہب مکالمے کے عالمی رہنما اور دیو سنسکرتی وشوودیالیا یونیورسٹی کے نائب صدر، نے مصنوعی ذہانت سے متعلق مباحث میں روحانی اور اخلاقی دانش کو شامل کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کے مطابق، ٹیکنالوجی یہ بتا سکتی ہے کہ انسان کیا کر سکتا ہے، لیکن مذہبی اور اخلاقی اقدار یہ رہنمائی فراہم کرتی ہیں کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی وقار، آزادی اور اخلاقی ذمہ داری سے متعلق فیصلے انسانوں ہی کے دائرۂ اختیار میں رہنے چاہئیں۔
ریم بالحسین الشریف، جو آئی ٹی یو کے ٹیلی کمیونیکیشن اسٹینڈرڈائزیشن سیکٹر میں ویمن نیٹ ورک کی چیئرپرسن اور "تونس ٹیلی کوم” میں چیف انوویشن اینڈ اسٹریٹجی آفیسر ہیں، نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا مقصد انسانی زندگی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے، جبکہ انسانی وقار، اعتماد اور شمولیت کو تکنیکی ترقی کے مرکز میں برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بین الاقوامی معیارات اخلاقی اصولوں کو عملی اطلاق میں تبدیل کرنے اور اے آئی کی ترقی میں تنوع کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مذاہب مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے اخلاقی فریم ورک کی تشکیل میں ایک بنیادی شراکت دار ہیں، کیونکہ ان کے پاس ایسی انسانی اور اخلاقی اقدار موجود ہیں جو انسانی وقار کے تحفظ، اخلاقی ذمہ داری کے فروغ اور مشترکہ انسانی اصولوں کے استحکام میں مدد دیتی ہیں۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ مذہبی رہنماؤں اور ٹیکنالوجی کی صنعت کے مابین مکالمہ صرف نظریات کے تبادلے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عملی شراکت داریوں اور قابلِ عمل اقدامات کی صورت اختیار کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں مذہبی قیادت کو ٹیکنالوجی کے انسانی اور سماجی اثرات کے بارے میں اپنی مؤثر رائے پیش کرنی چاہیے تاکہ جدت طرازی کو انسانیت کی خدمت اور اجتماعی بھلائی کی جانب رہنمائی دی جا سکے۔
شرکاء نے خواتین اور نوجوانوں کی عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت سے متعلق مباحث میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کی بھی اپیل کی، کیونکہ وہ ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی شراکت دار ہیں۔ ان کے مطابق تنوع اور شمولیت ایک زیادہ منصفانہ اور انسانی عالمی نظام کی بنیاد ہیں۔
نشست کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ایک ذمہ دار مستقبل کے لیے ایسی عالمی شراکت داری ناگزیر ہے جس میں حکومتیں، بین الاقوامی ادارے، نجی شعبہ، جامعات، سول سوسائٹی اور مذہبی قیادت سب شامل ہوں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انسان تکنیکی ترقی کا مرکز رہے اور اخلاقی اصولوں کو عملی پالیسیوں اور اقدامات میں تبدیل کیا جائے، تاکہ مصنوعی ذہانت ایک حقیقی عالمی عوامی منفعت (Global Public Good) بن کر انسا
