جنیوا میں منعقدہ عالمی مکالمہ برائے مصنوعی ذہانت کی حکمرانی میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کی شرکت کے دوران بین الاقوامی، اقوامِ متحدہ، اور مذہبی قیادتوں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں اور مذاکرات ہوئے۔ ان ملاقاتوں میں بین الاقوامی تعاون کے فروغ، مشترکہ انسانی اقدار کے استحکام، اور ایک زیادہ پُرامن اور یکجہتی پر مبنی دنیا کی تعمیر کے لیے کوششوں کی حمایت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ تمام سرگرمیاں فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر،چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، کے اس فکری و انسانی وژن کی عکاسی کرتی ہیں جو عالمی سطح پر مکالمے، امن اور انسانی اخوت کے فروغ کے لیے وقف ہے۔
عالمی مکالمے میں شرکت کے دوران، محمد عبدالسلام، سیکریٹری جنرل مسلم کونسل آف ایلڈرز، نے ڈاکٹر نگوزی اوکونجو ایویالا، ڈائریکٹر جنرل، عالمی تجارتی تنظیم اور 2025 کے زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کی جیوری کی رکن، ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس، ڈائریکٹر جنرل، عالمی ادارۂ صحت، آندا فلپ، سیکریٹری جنرل، بین الپارلیمانی یونین، اقوام متحدہ اور جنیوا میں موجود بین الاقوامی تنظیموں کے متعدد سفیروں اور مستقل نمائندوں، نیز ریورنڈ ڈاکٹر جیری پِلے، سیکریٹری جنرل، ورلڈ کونسل آف چرچز سے ملاقات کی۔
ان ملاقاتوں کے دوران محمد عبدالسلام نے مسلم کونسل آف ایلڈرز کے پیغام اور اس کی ان کوششوں پر روشنی ڈالی جو بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے، انسانی اخوت، بقائے باہمی اور امن کے فروغ کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کونسل ایسے مؤثر بین الاقوامی شراکت داریوں کے قیام کے لیے کوشاں ہے جو انسانی چیلنجز سے نمٹنے اور مشترکہ اقدار کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوں، تاکہ انسانیت کی خدمت اور انسانی وقار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت، جو ابوظہبی سے شروع ہوا، ایک عالمی مثال بن چکا ہے جو انسان دوست اور متاثر کن کوششوں کو سراہتا ہے اور اخوت، بقائے باہمی اور مختلف اقوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیتا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اس ایوارڈ کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی حیثیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک آزاد اور معتبر اعزاز ہے جو انسانی خدمت کے شعبے میں نمایاں اقدامات کو تسلیم کرتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور بحرانوں کے تناظر میں ایسی کاوشوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے تاکہ انسانیت کے لیے ایک زیادہ پُرامن اور بہتر مستقبل تشکیل دیا جا سکے۔
ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس کے ساتھ گفتگو کے دوران بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے ذریعے امن کے قیام کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ محمد عبدالسلام نے کہا کہ امن ایک انسانی اور اخلاقی ضرورت ہے جو صحت اور انسانی فلاح کے اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے قابل بناتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا جنگوں اور تنازعات کا سامنا کر رہی ہے اور جن کا سب سے زیادہ نقصان بے گناہوں، غریبوں اور کمزور طبقات کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس موقع پر عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے عالمی صحت کے چیلنجز اور انسانی بحرانوں سے نمٹنے میں متحدہ عرب امارات کے نمایاں کردار اور انسانی اخوت و رواداری کے فروغ کے لیے اس کی کوششوں کو سراہا۔
محمد عبدالسلام اور ورلڈ کونسل آف چرچز کے سیکریٹری جنرل ریورنڈ ڈاکٹر جیری پِلے کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں اداروں کے درمیان تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا، خصوصاً نفرت انگیز تقاریر اور انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کے ماننے والوں کے درمیان اعتماد اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے کے حوالے سے۔ ڈاکٹر جیری پِلے نے انسانی اخوت اور بین المذاہب مکالمے کے فروغ میں اماراتی ماڈل کو ایک قابلِ تقلید اور متاثر کن نمونہ قرار دیا۔
ملاقاتوں میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آج کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ مذہبی قیادتوں اور بین الاقوامی اداروں کے مشترکہ تعاون کی ضرورت ہے تاکہ عالمی بحرانوں کا مقابلہ کیا جا سکے، انسانی یکجہتی کو مضبوط بنایا جا سکے، اور انسان اور اس کے وقار کو تمام ترجیحات کا مرکز بنایا جا سکے۔ اسی طرح اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا کہ سائنسی اور تکنیکی ترقی، خصوصاً مصنوعی ذہانت، انسانیت اور معاشروں کی بھلائی کے لیے استعمال ہو۔
یہ ملاقاتیں مسلم کونسل آف ایلڈرز کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا، اقوامِ متحدہ، مذہبی اور فکری اداروں کے ساتھ شراکت داریوں کو فروغ دینا، بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے کی حمایت کرنا، اور انسانی اخوت، امن اور بقائے باہمی کی اقدار کو دنیا بھر میں عام کرنا ہے۔
