Muslim Elders

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے نیویارک میں قرآنِ مجید کے ایک نسخے کی بے حرمتی اور اسے پھاڑنے کے عمل کی شدید مذمت کی ہے، اور اسلاموفوبیا، انتہاپسندی اور نفرت انگیز بیانیوں میں بڑھتے ہوئے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز، فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف کی سربراہی میں، امریکہ کے شہر نیویارک میں ایک چرچ کے اندر ایک انتہاپسند شخص کی جانب سے قرآنِ مجید کے ایک نسخے کو پھاڑنے کے اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اس گھناؤنے جرم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل قابلِ نفرت نسل پرستی اور تعصب کی عکاسی کرتا ہے، جو آسمانی مذاہب کی تعلیمات، بین الاقوامی معاہدوں، عالمی روایات اور انسانی اقدار کے سراسر خلاف ہے۔ یہ واقعہ دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور مکالمے، امن اور باہمی بقائے باہمی کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان، انتہاپسندی، نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی بیانیوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے واقعات کی مسلسل تکرار تمام اقسام کی مذہبی نفرت اور تعصب کے خلاف سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کی متقاضی ہے۔ اور کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کو مذاہب کی توہین یا ان کے مقدسات کی بے حرمتی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اس نے واضح کیا کہ مذہبی عقائد اور مقدس علامات کا احترام معاشرتی امن کے فروغ اور انسانی وقار کے تحفظ کی بنیادی شرط ہے۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے مزید کہا کہ عبادت گاہیں ہمیشہ امن، محبت اور انسانیت کے درمیان قربت پیدا کرنے کے مراکز رہنی چاہئیں۔ انہیں مذاہب اور مقدسات کی توہین یا نفرت انگیزی کے لیے استعمال کرنا ان کے اصل مقصد اور مقام کے منافی ہے۔ اور کونسل نے مطالبہ کیا کہ ایسے مؤثر قوانین وضع کیے جائیں جو مذاہب کی توہین اور مقدسات و مذہبی علامات کی بے حرمتی کو جرم قرار دیں، اور اسلاموفوبیا، مذہبی نفرت اور تعصب کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی اور سماجی سطح پر کوششوں کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ ساتھ ہی مکالمے، باہمی احترام اور انسانی بقائے باہمی کی ثقافت کو فروغ دیا جائے۔