مسلم کونسل آف ایلڈرز، فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، کی سربراہی میں، اس بات پر زور دیتی ہے کہ انسانی ورثہ اقوام کی اجتماعی یادداشت، ان کی تہذیبی شناخت کا ریکارڈ، اور اقوام کے درمیان رابطے اور تفہیم کا ایک مضبوط پل ہے۔ کونسل نے واضح کیا کہ انسانی ورثے کا تحفظ دراصل انسانیت کی یادداشت کی حفاظت اور ایک ایسے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے جس کی بنیاد امن پر ہو۔
عالمی یومِ ورثہ کے موقع پر جاری اپنے بیان میں مسلم کونسل آف ایلڈرز نے کہا کہ ورثے کا تحفظ ایک مشترکہ انسانی ذمہ داری ہے، خاص طور پر اس وقت جب اسے تنازعات، ماحولیاتی تبدیلیوں، اور مٹانے یا مسخ کرنے کی کوششوں جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ کونسل نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ورثے کی حفاظت میں وہ اقدار اور روایات بھی شامل ہیں جو شناخت اور وابستگی کے احساس کو مضبوط بناتی ہیں۔
بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ اسلامی ورثہ انسانی ورثے کے اہم ترین سرچشموں میں سے ایک ہے، کیونکہ یہ رحمت، عدل اور باہمی تعارف کی اقدار کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اے لوگو! بیشک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو﴾۔ اسلامی تہذیب نے اپنی پوری تاریخ میں علم، تنوع کے احترام، اور مختلف ثقافتوں کے ساتھ مثبت تعامل پر مبنی ایک درخشاں تہذیبی نمونہ پیش کیا ہے۔
بیان میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ اسلامی ورثے کا تحفظ اعتدال اور وسعتِ نظری کی اقدار کو مضبوط کرنے اور انتہا پسندی و نفرت پر مبنی بیانیوں کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کونسل نے اس ورثے کو مکالمے اور رواداری کے فروغ اور اقوام کے درمیان مفاہمت کے پل تعمیر کرنے کے لیے بروئے کار لانے کی دعوت دی۔
آخر میں، مسلم کونسل آف ایلڈرز نے عالمی برادری سے اپنی اپیل کی تجدید کی کہ انسانی ورثے کے تحفظ اور اس کے تمام اجزا کی صیانت کے لیے مشترکہ بین الاقوامی کوششوں کو مزید تقویت دی جائے، تاکہ انسانیت کی اجتماعی یادداشت محفوظ رہے اور بقائے باہمی اور امن کا سفر مزید مضبوط ہو۔
