Muslim Elders

رومانیہ کے شہزادہ رادو سے ملاقات کے موقع پر، شیخِ الازہر، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز نے کہا:آج کی دنیا کو مشرق اور مغرب کے درمیان نفرت اور کشیدگی کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اقوام کے باہمی قریب آنے کی شدید ضرورت ہے۔

بروز جمعرات کی صبح، فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف نے شاہی عالی جناب رومانیہ کے شہزادہ رادو کا استقبال کیا۔ اس ملاقات کا مقصد باہمی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔

فضیلت مآب امامِ اکبر نے کہا کہ آج ہم سب کو پہلے سے کہیں زیادہ ایسے ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو اقوام کو یکجا کریں اور ایک دوسرے کے قریب لائیں، خصوصاً اس مشکل دور میں جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ بڑی عالمی پالیسیاں مشرق اور مغرب کے درمیان نفرت اور کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ ادیان کے درمیان تصادم نہیں ہے، اور اس کی واضح دلیل جامعہ الازہر اور مسلم کونسل آف ایلڈرز کا مشرقی و مغربی کلیساؤں کے ساتھ کھلا اور مثبت رابطہ ہے، جن میں ویٹیکن، کینٹربری چرچ، اور عالمی کلیساؤں کی کونسل شامل ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عالمی پالیسیاں کس طرح دینی اخلاقیات اور تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا: "جب دین کو سیاسی یا نوآبادیاتی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے تو ادیان ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، باہم ملتے ہیں، اور ان کے ماننے والوں کے درمیان حقیقی بقائے باہمی جنم لیتی ہے۔”
فضیلت مآب امامِ اکبر نے مزید کہا کہ آج دنیا کو رہنماؤں اور فیصلہ سازوں میں موجود دانا افراد اور بیدار ضمیر شخصیات سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، تاکہ وہ ان انسانی المیوں کا مقابلہ کر سکیں جن کا سامنا آج کی دنیا کو ہے، اور جو مشترکہ اور مربوط کوششوں کے متقاضی ہیں۔

دوسری جانب، رومانیہ کے شہزادہ رادو نے شیخ الازہر سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا اور عالمی امن کے قیام، اخوت اور بقائے باہمی کی ثقافت کے فروغ کے لیے فضیلت مآب امامِ اکبر کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سیاست کا دینی اقدار اور تعلیمات سے الگ ہو جانا، دین کے اصل مقصد کو درست طور پر نہ سمجھنا، اور مغربی معاشروں میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کا فقدان، موجودہ عالمی تنازعات کی ایک بنیادی وجہ ہے۔
ملاقات کے اختتام پر، شہزادہ رادو نے فضیلت مآب امامِ اکبر کو قرآنِ کریم کے رومانی زبان میں ترجمے کا ایک نسخہ بطورِ تحفہ پیش کیا، جو ان کے ملک کی جانب سے دینِ اسلام کے لیے قدر و احترام کا اظہار ہے۔