"مسلم كونسل آف ایلڈرز ” إمام الطیب اور پوپ فرانسس کی موجودگی میں اسلامی عیسائی مکالمے کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرے گى-
إمام الطیب اور پوپ فرانسس بحرین میں مسلم كونسل آف ایلڈرز کے اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی اور خوراک کی عالمی قلت کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہیں۔
بحرین میں "مسلم كونسل آف ایلڈرز ” کے اجلاس میں إمام الطیب اور پوپ فرانسس کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس جس میں موسمیاتی تبدیلی اور عالمی خوراک کی کمی کے بحران سے نمٹنے میں مذہبی رہنماؤں کے کردار پر غور کیا جائے گا۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز اپنے اگلے اجلاس کے دوران بحرین میں پوپ فرانسس اور امام الطیب کی موجودگی میں اسلامی عیسائی مکالمے کے سيشن کی میزبانی کرے گی۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز کا باقاعدہ اجلاس، جو کہ 4 نومبر کو بحرین میں منعقد ہو گا جس میں میں، مسلم کونسل آف ایلڈرز کے اراکین اور کیتھولک چرچ کے سینئر پادریوں کے درمیان ایک اہم بحث اور براہ راست بات چیت کا مشاہدہ ہو گا۔ جس میں امام الاکبرپروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب،شیخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل اف ایلڈرز، اور کیتھولک چرچ کے پوپ مقدس پوپ فرانسس بھی شرکت کریں گے جس میں اکیسویں صدی میں انسانیت کو درپیش عالمی مسائل اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل جج محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ اس مکالمے کے دوران مذہبی رہنما نمایاں ترین عالمی مسائل اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے طریقہ کار پر اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے۔
سب سے پہلا درپیش مسلہ: موسمیاتی تبدیلی اور لوگوں کی زندگیوں پر اس کے منفی اثرات،
اور اس سے نمٹنے میں مذہبی رہنماؤں اور نمائندوں کا کردار، اور خوراک اور پانی پر اس کا اثر، جو کہ انسانی آفات کی نشاندہی کرتا ہے، اور اس کےعلاوہ انسانی بھائی چارے کے لیے اسلامی عیسائی مکالمے کو فروغ دینا۔
اس مکالمے میں مسلم ایلڈرز اور کیتھولک چرچ کے رہنما ایک ایسا ماڈل پیش کرتے ہیں جو کہ مختلف مذاہب کے رہنماؤں اور پیروکاروں کے درمیان تعلقات کیسے ہونے چاہیے اور مذہبی اور قانونی نقطہ نظر سے درپیش چیلنجز کے سنجیدہ اور عملی اقدامات ، حقیقت پسندانہ حل فراہم کرنے میں مذہبی رہنماوں اور پیشواوں کا کردار کیسا ہونا چاہیے جو انسانیت کو درپیش ان بحرانوں کے اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو۔
