Muslim Elders

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے جمہوریہ قازقستان میں منعقد ہونے والی عالمی اور روایتی مذاہب کے رہنماؤں کی کانگریس کے جنرل سیکریٹریٹ کے 24ویں اجلاس میں شرکت کی۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے جمہوریہ قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں بروز بدھ منعقد ہونے والے عالمی اور روایتی مذاہب کے رہنماؤں کی کانگریس کے جنرل سیکریٹریٹ کے 24ویں اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں متعدد مذہبی رہنماؤں اور بین الاقوامی شخصیات نے شرکت کی۔ کونسل کی یہ شرکت بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے کے فروغ اور پُرامن بقائے باہمی، انسانی اخوت اور امن کی اقدار کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکریٹری جنرل عزت مآب مشیر محمد عبدالسلام نے دنیا کو درپیش چیلنجز کے سلسلے میں مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داریوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اقوام اور معاشروں کے درمیان امن، باہمی افہام و تفہیم اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت اجاگر کی۔

مشیر محمد عبدالسلام نے مذہبی رہنماؤں سے امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے اور تنازعات کے خاتمے کے لیے جاری بین الاقوامی اور علاقائی کاوشوں کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے علاقائی اور عالمی امن کی حمایت، نیز رواداری اور انسانی اخوت کی اقدار کو فروغ دینے کے لیے متحدہ عرب امارات کی کوششوں کو بھی سراہا۔

مشیر محمد عبدالسلام نے فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں اور بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے جمہوریہ قازقستان کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مشیر محمد عبدالسلام نے 2025 کے آستانہ اعلامیہ برائے امن کی بنیاد پر پیش رفت کرنے اور مشترکہ اقدار و اصولوں کو ایسی عملی حقیقت میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا جس کے اثرات لوگوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس ہوں۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مشیر محمد عبدالسلام نے تکنیکی ترقی کی اخلاقی رہنمائی کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ انسانی وقار، نجی زندگی اور آزادی کا تحفظ کیا جا سکے اور ٹیکنالوجی بدستور انسانیت کی خدمت میں رہے۔ مشیر محمد عبدالسلام نے واضح کیا کہ ذہین نظام معلومات فراہم کرنے اور متون کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں، لیکن انہیں انسانی ضمیر کی جگہ نہیں لینی چاہیے، نہ روحانی اختیار کا دعویٰ کرنا چاہیے اور نہ ہی مذہبی معاملات میں ایک آزاد اور حتمی مرجع بننا چاہیے۔

مشیر محمد عبدالسلام نے مشترکہ اقدار کو مضبوط بنانے، انسانی ضمیر کو بیدار کرنے اور باہمی احترام کے فروغ میں مذہبی اداروں کے اہم کردار کی نشان دہی کی۔ جسٹس محمد عبدالسلام نے کہا کہ انسانی اخوت کی تاریخی دستاویز، جس پر فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز اور مرحوم پوپ فرانسس نے 2019 میں ابوظبی میں دستخط کیے تھے، انسانی وقار اور انسانیت کے مستقبل کے لیے مشترکہ ذمہ داری کے اصول کو مستحکم کرتی ہے۔

مشیر محمد عبدالسلام نے مذہبی اداروں کے مابین شراکت داری کو تعلیمی اور سماجی اقدامات تک وسعت دینے، نیز حل کی تیاری اور ان پر عمل درآمد کے عمل میں نوجوانوں، خواتین، محققین اور مقامی برادریوں کے نمائندوں کو شامل کرنے کی اپیل کی۔ جسٹس محمد عبدالسلام نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ مسلم کونسل آف ایلڈرز ایسے اقدامات میں تعاون کے لیے تیار ہے جو بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے کو فروغ دیں، انسانی اخوت کو مضبوط بنائیں، عصری چیلنجز سے نمٹنے میں مدد فراہم کریں اور امن و استحکام کے قیام میں کردار ادا کریں۔

اجلاس میں شیخ الاسلام اللہ شکر پاشازادہ، آذربائیجان اور پورے قفقاز کے مسلمانوں کے روحانی پیشوا اور مسلم کونسل آف ایلڈرز کے رکن، نے بھی شرکت کی۔ شیخ الاسلام اللہ شکر پاشازادہ نے مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے، نیز امن اور پُرامن بقائے باہمی کی اقدار کو عام کرنے کے لیے مذہبی رہنماؤں کی کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔