Muslim Elders

مسلم کونسل آف ایلڈرز انسانیت کے مستقبل کی تشکیل اور عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مذہبی رہنماؤں اور شخصیات کے کردار کو مضبوط بنانے پر زور دیتی ہے۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے امریکہ کی بریگھم ینگ یونیورسٹی (BYU) کے جے روبن کلارک لاء اسکول کے تحت قائم بین الاقوامی مرکز برائے قانون و مذہب کی جانب سے 4 سے 6 اکتوبر 2026 تک منعقد ہونے والی قانون اور مذہب کی 33ویں سالانہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے ممتاز مذہبی رہنما، دانشور، ماہرین تعلیم اور مختلف شعبوں کے ماہرین شریک ہوئے۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے ڈائریکٹر برائے اسٹریٹجک پلاننگ، محمد بحر نے “مذہبی تکثیریت کے تناظر میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان احترام” کے عنوان سے منعقدہ نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سوال صرف یہ نہیں رہا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنے کی ترغیب کیسے دی جائے، بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ ایسے معاشرے اور ادارے کیسے تشکیل دیے جائیں جہاں مختلف ادیان اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد مل کر انسانیت کے مستقبل کی تعمیر میں کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذہبی تکثیریت کا مطلب اپنے عقائد یا اصولوں سے دستبردار ہونا نہیں بلکہ دوسروں کے وقار، ان کے حقِ وجود اور انسانیت و معاشرے کے لیے مشترکہ ذمہ داری کا احترام کرنا ہے۔

محمد بحر نے کہا کہ مذاہب اپنے اخلاقی اصولوں اور اقدار کے ساتھ، نیز اپنی تاریخی اور سماجی تجربات کی بنیاد پر، مستقبل کے بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان چیلنجز میں بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI)، موسمیاتی تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلو شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی رہنماؤں، دینی شخصیات اور مذہبی اداروں کی بین الاقوامی مباحثوں میں مؤثر شمولیت کو فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ مشترکہ عالمی مسائل سے متعلق پالیسیوں اور اخلاقی اصولوں کی تشکیل میں ان کا کردار نمایاں ہو۔ انہوں نے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان "فکری احترام” کے تصور کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تنوع، تکثیریت اور اختلاف رائے کے احترام کو تقویت ملتی ہے، جبکہ معاشروں میں پائے جانے والے غلط تصورات اور منفی دقیانوسی خیالات کے ازالے میں بھی مدد ملتی ہے۔

اس موقع پر محمد بحر نے مسلم کونسل آف ایلڈرز کی اس حکمت عملی کا بھی جائزہ پیش کیا جس کا مقصد مکالمہ، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینا، نفرت انگیز اور انتہاپسندانہ بیانیوں کا مقابلہ کرنا اور غلط فہمیوں کی اصلاح کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم کونسل آف ایلڈرز اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف مذاہب کے رہنماؤں اور مذہبی اداروں کے درمیان تعلقات اور شراکت داریوں کو فروغ دے رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت مذہبی سفارت کاری، ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق عالمی کانفرنسوں میں “بین المذاہب پویلین” کے قیام، اور مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور انسانی وقار سے متعلق بین الاقوامی اقدامات میں فعال شرکت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلم کونسل آف ایلڈرز اپنے قیام (2014) سے ہی انسانی اخوت کی اقدار کو پائیدار ادارہ جاتی تعاون اور شراکت داریوں میں تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ کوششیں انسانی اخوت کی دستاویز سے رہنمائی حاصل کرتی ہیں، جس پر 2019 میں ابوظہبی میں فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، اور مرحوم پوپ فرانسس نے دستخط کیے تھے۔ اس تاریخی دستاویز کا مقصد مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے پیروکاروں کے کردار کو امن کے قیام اور انسانیت کی خدمت میں مضبوط بنانا ہے۔

اس نشست میں نائجیل کُک (جمیکا یونین آف سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ چرچ میں عوامی امور اور مذہبی آزادی کے ڈائریکٹر) اور سوفرا دیو کار (بنگلہ دیش کے انسانی حقوق کے کارکن) نے بھی شرکت کی، جبکہ نشست کی نظامت نیل لنڈبرگ نے کی، جو بریگھم ینگ یونیورسٹی کے بین الاقوامی مرکز برائے قانون و مذہب میں سینئر محقق ہیں۔

اسی تناظر میں محمد بحر نے بریگھم ینگ یونیورسٹی کے عربی زبان اور مشرقِ وسطیٰ کے مطالعات کے طلبہ کے ساتھ ایک فکری نشست بھی کی، جس میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان مکالمے کی اہمیت، باہمی افہام و تفہیم اور بقائے باہمی کے فروغ، نوجوانوں کے کردار، ثقافتی و مذہبی تنوع کے احترام اور نفرت انگیز بیانیوں و منفی تصورات کے مقابلے کے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ اقدار زیادہ ہم آہنگ، مضبوط اور پرامن معاشروں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔