مسلم کونسل آف ایلڈرز، فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف کی سربراہی میں، کینیڈا کے شہر مونکٹن میں ایک مسلمان خاتون پر ہونے والے نسل پرستانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ خاتون کو اپنے سات سالہ بیٹے کے سامنے نسل پرستانہ اور توہین آمیز الفاظ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد معاملہ جسمانی تشدد تک جا پہنچا۔ اس حملے کے نتیجے میں خاتون دماغی ارتعاش (Concussion) اور ناک سے خون بہنے کی حالت میں زخمی ہوئیں۔ ابتدائی تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ جرم ممکنہ طور پر مذہبی نفرت کے محرکات کے تحت کیا گیا۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسلاموفوبیا، نفرت انگیز خطابات اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو بالآخر بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے والے حملوں کا سبب بنتے ہیں۔ مجلس کے مطابق اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ نفرت اور تعصب کے اسباب کا خاتمہ کیا جا سکے، مکالمے اور باہمی احترام کی اقدار کو فروغ دیا جا سکے، اور انسانی وقار کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدامات زیادہ محفوظ، مستحکم اور پُرامن معاشروں کی تشکیل میں معاون ثابت ہوں گے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اس قابلِ مذمت حملے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ کونسل نے نفرت انگیز جرائم، نسل پرستی، انتہاپسندی اور اسلاموفوبیا کے خلاف قانون سازی اور پالیسیوں کو مزید مضبوط بنانے، نیز شہریت، رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
