مسلم کونسل آف ایلڈرز، فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر شریف کی سربراہی میں، اس بات پر زور دیتی ہے کہ امتیازی سلوک ہر صورت اور ہر شکل میں انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کونسل نے واضح کیا کہ ثقافتی اور نسلی تنوع معاشروں کے لیے کشمکش اور تقسیم کا سبب نہیں بلکہ طاقت اور خوشحالی کا ذریعہ ہے۔
کونسل نے امتیازی سلوک کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر، جو ہر سال 21 مارچ کو منایا جاتا ہے، جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ دینِ اسلام کی تعلیمات انسانوں کے درمیان مساوات، باہمی پہچان اور بقائے باہمی کی دعوت دیتی ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی نسل، رنگ یا ثقافت سے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا﴾
(سورۃ الاسراء: 70) ترجمہ: "یقیناً ہم نے اوﻻد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزه چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی” (سورۃ الاسراء: 70 )
بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ نسل پرستی آج بھی معاشروں کے لیے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے، کیونکہ اس کے سماجی امن اور عالمی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ اس رجحان کا مقابلہ بین الاقوامی تعاون، مکالمے کی ثقافت کے فروغ، باہمی احترام، اور شہری حقوق، انصاف اور مساوات کی اقدار کے استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نسلی امتیاز کے رجحان کو محدود کرنے اور اس کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے، اور ایسے بامقصد اقدامات کر رہی ہے جو مساوات، دوسروں کے احترام اور قبولیت کی اقدار کو فروغ دیں، اور مکالمے، رواداری اور مشترکہ بقائے باہمی کی ثقافت کو مضبوط کریں۔
اسی تناظر میں، اخوتِ انسانی کی دستاویز- جس پر 2019 میں ابوظبی میں فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر شریف، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، اور کیتھولک چرچ کے سابق پوپِ، پوپ فرانسس نے دستخط کیے – مساوات اور عدل و انصاف کی اقدار کے فروغ، اور رواداری و باہمی احترام کے اصولوں کے استحکام کی دعوت دیتی ہے۔ اس دستاویز میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ مواطنت (شہریت) کا تصور حقوق و فرائض میں مکمل برابری پر قائم ہے، جو سب کے لیے انصاف کو یقینی بناتا ہے۔
دستاویز میں “اقلیت” کی اصطلاح کے امتیازی اور خارج کرنے والے استعمال کو ترک کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ یہ اصطلاح تنہائی، کمتر حیثیت، فتنہ و انتشار کو ہوا دے سکتی ہے، بعض شہریوں کے مذہبی اور شہری حقوق میں کمی، اور ان کے خلاف امتیازی سلوک کا سبب بن سکتی ہے۔
