عراق بین الاقوامی کتاب میلے میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کے پویلین میں میں ایک اہم فکری نشست منعقد ہوئی جس کا عنوان تھا: "دینی تعلیم اور اسلامی اسلامی مکالمے کی ناگزیریت: ایسا شعور جو امت کو جوڑے، نہ کہ تقسیم کرے”۔ اس نشست میں پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین السامرائی، ڈین فکیلٹی الإمام الأعظم جامعہ، نے شرکت کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سمیر بودینار، ڈائریکٹر مرکز الحکماء برائے تحقیقِ امن، نے انجام دیے۔
نشست کے آغاز میں ڈاکٹر سمیر بودینار نے کہا کہ یہ نشست کونسل کی فکری سرگرمیوں کے سلسلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد امت کے موجودہ حالات سے جڑے ایک نہایت اہم موضوع پر گفتگو کرنا ہے، یعنی اسلامی صفِ واحد کا قیام اور فکری و مذہبی فاصلے کم کرنا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دینی تعلیم محض ایک علمی نصاب نہیں بلکہ امت کی شناخت کی جڑ ہے جو آنے والی نسلوں کے تراث کو سمجھنے کے طریقے کو تشکیل دیتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین السامرائی نے فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر شریف کی سربراہی میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کی کوششوں کو سراہا، جو امت کے مختلف طبقات کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اس شعور کو اجاگر کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے جو اتحاد کو مضبوط کرتا اور تفرقہ، نفرت اور تعصب پر مبنی خطابات کو ختم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دینی تعلیم اور شرعی ادارے امت کے شعور کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، نہ صرف علمی سطح پر بلکہ معاشرتی سطح پر بھی، جو ایک کھلی اور متوازن دینی بصیرت کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دینی تعلیم کو سطحی انداز میں پیش کیا جائے یا غلط سمجھا جائے تو یہ خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ نصوصِ شرعیہ وسیع ہیں اور ان کی تشریحات کے کئی پہلو ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے ایسے نصاب فراہم کریں جو دین کو مضبوط علمی زبان میں پیش کریں۔
ڈاکٹر السامرائی نے کہا کہ اگر نصوص کا درست فہم غائب ہو جائے تو علم انتہا پسندی یا انغلاق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے نصاب تیار کیے جائیں جو علومِ دین اور علومِ عصر دونوں کو شامل کریں۔ انہوں نے جامعہ ازہر کے ماڈل کو سراہا جو فقہ، قرآن اور حدیث کے ساتھ ساتھ طبیعیات اور فلکیات بھی پڑھاتی ہے، اور کہا کہ عالمِ دین کو کائنات کے سنن سے بھی واقف ہونا چاہیے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ قرآن خود انسانی اختلاف کو ایک فطری اور سننی حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے، اور اجتہاد و فہم میں تنوع تضاد نہیں بلکہ علمی وسعت ہے، بشرطیکہ اسے عقل کے ساتھ سنبھالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امت ایک ہی رائے پر نہیں بنی بلکہ متعدد آراء پر قائم ہوئی، اور بڑے ائمہ کے درمیان اختلاف رحمت اور وسعت کا سبب تھا۔ مسئلہ اختلاف میں نہیں بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف کو نفرت اور تکفیر میں بدل دیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ امت کو اختلاف کو علمی توانائی میں بدلنا چاہیے جو فقہ اور فکر کو مالا مال کرے، نہ کہ اسے ایسے تصادم میں تبدیل کرے جو تعلقات کو توڑ دے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز، عراق بین الاقوامی کتاب میلے میں اپنی شرکت کے ذریعے اپنے اس پیغام کو اجاگر کر رہی ہے جو امن کے فروغ، مکالمے اور رواداری کی اقدار کو مستحکم کرنے اور مختلف نسلوں اور عقائد کے درمیان تعاون کے پل قائم کرنے پر مبنی ہے۔ کونسل کا پویلین، بغداد انٹرنیشنل فئیر گراؤنڈ – پویلین نمبر 16 – H6 میں واقع ہے۔
