عراق بین الاقوامی کتاب میلے کے کے چوتھے دن مسلم کونسل آف ایلڈرز نے ایک اہم فکری نشست کا اہتمام کیا جس کا عنوان تھا: "اسلامی مکاتبِ فکر کے درمیان مشترکہ ورثہ: جامع نصوص کا مطالعہ”۔ اس نشست میں پروفیسر ڈاکٹر سعدی الجمیلی، استاد اصولِ فقہ اور سابق ڈین کلیۃ الشریعہ، جامعہ عراقیہ – بغداد، اور پروفیسر ڈاکٹر عمار عبودی نصار، استاد تاریخ و فکرِ اسلامی، کلیۃ الآداب، جامعہ کوفہ، نے شرکت کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد جمال، شیخ الازہر کے آفس میں ورثہ کی بحالی کے محقق نے انجام دیے۔
نشست کے آغاز میں ڈاکٹر محمد جمال نے کہا کہ اسلامی تراث محض نصوص اور روایات نہیں بلکہ ایک فکری فضاء ہے جس میں مفاہیم ایک دوسرے سے جُڑتے اور مقاصد ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختلاف کا ادب وہ پل ہے جس کے ذریعے مکالمے کو اتحاد کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، نہ کہ تفرقے کا سبب، اور اس ادب کو زندہ کرنا اعتدال پر مبنی اسلامی شعور کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سعدی الجمیلی نے وضاحت کی کہ تراث کا موضوع قدیم ہے جس پر محققین نے ہر دور میں بحث کی، لیکن موجودہ حالات میں اس کی نئی قراءت کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے، کیونکہ بعض حلقے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تراث کا وسیع مفہوم صحابہ اور تابعین کے دور سے لے کر آج تک کے علمی ورثے کو شامل کرتا ہے، جو دینی ثوابت اور فقہی اجتہادات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ہی مکتب کے اندر آراء کا تنوع کمزوری نہیں بلکہ قوت اور زندگی کی علامت ہے، کیونکہ جو امت سوچتی، بحث کرتی اور تحقیق کرتی ہے وہ زندہ اور تجدید کی صلاحیت رکھنے والی امت ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عمار نصار نے کہا کہ اسلامی شناخت کو مضبوط کرنے کا آغاز تفاہم کے فروغ سے ہوتا ہے، اختلاف کو بڑھا کر نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے حالات میں ایسی علمی نشستوں کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے، کیونکہ بعض لوگ تراثی نصوص کو انتقائی انداز میں استعمال کر کے امت کے اتحاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مسلمانوں کے درمیان عقائد اور فقہی اصولوں کی اکثریت مشترک ہے، اور اختلاف کو بنیادی تصادم کے طور پر پیش کرنا دراصل مصادر کے محدود استعمال اور متون کی تحریف کا نتیجہ ہے۔
شرکاء نے فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر شریف، کی اس دعوت کو سراہا جو انہوں نے امت کے اتحاد اور تمام مکاتبِ فکر کے درمیان تفاہم کے فروغ کے لیے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضیلت مآب کی یہ کوشش اسلامی مکالمے کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد رکھتی ہے جو اخوت اور باہمی احترام پر قائم ہے۔
نشست کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ اسلامی تراث کبھی تفرقے کا سبب نہیں رہا بلکہ اپنی اصل میں مسلمانوں کے اتحاد کا پل رہا ہے، اور اس کی قراءت مشترکات کی روشنی میں امت کے اجتماعی شعور کو دوبارہ تعمیر کر سکتی ہے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز، عراق بین الاقوامی کتاب میلے میں اپنی شرکت کے ذریعے اپنے اس پیغام کو اجاگر کر رہی ہے جو امن کے فروغ، مکالمے اور رواداری کی اقدار کو مستحکم کرنے اور مختلف نسلوں اور عقائد کے درمیان تعاون کے پل قائم کرنے پر مبنی ہے۔ کونسل کا پویلین، بغداد انٹرنیشنل فئیر گراؤنڈ – پویلین نمبر 16 – H6 میں واقع ہے۔
