اسلامی اسلامی مکالمہ کانفرنس کے چوتھے اجلاس کے شرکاء نے، جو کہ "شہریت اور اسلامی مکالمے کا فروغ” کے عنوان کے تحت منعقد ہوا، اس بات کی تصدیق کی کہ اس وقت اس کانفرنس کا انعقاد الازہر الشریف، مسلم کونسل آف ایلڈرز اور مملکت بحرین کی جانب سے مسلمانوں کے اتحاد اور ان کی یکجہتی کو جامع اسلام کے سایے تلے جمع کرنے کی گہری دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے شہریت اور بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینے میں ان کی کوششوں کی تعریف کی، اور اس امید کا اظہار کیا کہ الازہر الشریف جیسے معتدل مذہبی اداروں کی کوششوں کی بنیاد پر ایک روشن مذہبی مستقبل کی تعمیر کی جائے گی، جس میں اعتدال پسندی، رواداری اور بقائے باہمی کی مسلسل طلب شامل ہو۔
اجلاس کے آغاز میں، ڈاکٹر جواد الخوئی، جو عراق میں دار العلم برائے امام خوئی کے صد، نے امام اعظم ڈاکٹر احمد الطیب کی اس اہم کانفرنس کے انعقاد کی دعوت کی تعریف کی، یہ کہتے ہوئے کہ یہ کانفرنس مسلمانوں کے اتحاد اور ان کی آواز کو ایک جگہ جمع کرنے میں گہری دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلامی امت ان چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اپنے علمی ورثے اور ثقافتی ورثے میں ہی مضبوط حمایت حاصل کر سکتی ہے، جو اسے ان فکری اور نظریاتی جنگوں میں عزم اور اعتماد کے ساتھ لڑنے کے قابل بناتا ہے۔
مذہبی اداروں کی اعتدال اور رواداری کو پھیلانے کی کوششوں کے بارے میں؛ ایران کے سابق صدر محمد خاتمی کے نائب صدر جناب محمد علی ابتحی اور بین المذاہب مکالمے کی بین الاقوامی فاؤنڈیشن کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ روشن مذہبی مستقبل کی تعمیر کی امید الازہر الشریف جیسے اعتدال پسند مذہبی اداروں کی کوششوں پر منحصر ہے جو انتہا پسندی کو مسترد کرتے ہیں اور اعتدال پسندی اور رواداری پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مذہبی علماء کی مرجعیت میں کمی اور نئی نسلوں کے ساتھ رابطے میں خلل انتہا پسندانہ تشریحات میں اضافے کی اہم ترین وجوہات میں سے ہیں۔ مذہبی اداروں کی طرف سے جدید مسائل کو نظر انداز کرنا اور ان کے درمیان عدم اتفاق اسلامی مکالمے کو کمزور کرتا ہے، انہوں نے جامعہ الازہر اور دیگر اسلامی اداروں کے درمیان تعمیری مکالمے کے حصول کے لیے تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
جمہوریہ لبنان کے مفتی اعظم شیخ عبداللطیف دريان نے کہا کہ مکالمے کے دروازے کھولنا اور افہام و تفہیم اور بقائے باہمی کی راہیں قائم کرنا لوگوں کے درمیان تعلقات کی بنیادی ضروریات ہیں۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلام نے سمجھنے کی خواہش، علم، ثقافتوں کے درمیان بقائے باہمی اور رواداری کی بنیاد پر رائے کی تعریف اور احترام کی بنیاد پر مکالمے کی اہمیت کی توثیق کی ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اسلام عقل اور غور و فکر کی ممانعت نہیں کرتا اور نہ ہی مسلمانوں کو دنیاوی فکر کے کسی ایک نمونے پر عمل کرنے کا پابند کرتا ہے، لیکن یہ ہمیشہ مسلم ذہن کو مفید خیالات کی طرف راغب کرتا ہے جو انسان کو مکمل فکری آزادی کے ساتھ بلند کرتے ہیں۔
روس کے مفتی اعظم عزت مآب شیخ طلعت صفا تاج الدین نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مذاہب اور فرقوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کا روسی تجربہ مسلم محققین اور مفکرین کی توجہ کا مستحق نمونہ فراہم کرتا ہے، اور انہوں نے اسلامی معاشروں کی تعمیر کے لیے پیغمبر اسلام کی "میثاق مدینہ” کے اصولوں سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا، اسلامی مکالمے کی کوششوں کو مضبوط بنانے اور اس سے متعلقہ مطالعات کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کانفرنس ایک "دستاویز” جاری کرے گی جو اسلامی اتحاد کے اصولوں کو فروغ دے گی۔
سوڈان کے وزیر برائے اسلامی امور و اوقاف جناب عمر بخیت آدم نے شہریت کی اہمیت پر زور دیا، جو کہ لوگوں کے درمیان استحکام اور پرامن بقائے باہمی کے حصول کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مشترکہ مفادات کے اسلامی مسائل پر فیصلہ سازی کے لیے مسلم کونسل اف ایلڈرز کو ایک عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا، اور شیخ الأزہر اور مسلم علماء سے درخواست کی کہ وہ مسلم امور کے لیے ایک جامع عالمی کونسل کی تشکیل دیں، جو شہریت، رواداری اور مشترکہ بقائے باہمی کی اقدار کو مستحکم کرنے میں معاون ہو۔ اور کہا کے ہم اس کانفرنس کے نتائج کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سوڈان کے لوگوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کی امید کرتے ہیں، اور ہم امید کرتے ہیں کہ شیخ الأزہر کی موجودگی میں ان کی علم، حکمت اور قوم کے تئیں دلچسپی کے ساتھ اس مقصد کو حاصل کیا جائے گا، تاکہ درد، تنازعات اور اختلافات کا خاتمہ ہو سکے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی-اسلامی مکالمہ کانفرنس فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الأزہر، چیئرمین مسلم کونسل اف ایلڈرز کی نومبر 2022 میں بحرین میں مکالمہ فورم کے دوران دعوت پر منعقد ہو رہی ہے، جس کی سرپرستی شاہ بحرین حمد بن عیسی آل خلیفہ، نے کی، اور اس میں دنیا بھر سے 400 سے زائد علماء، رہنما، اسلامی حوالہ جات، مفکرین اور دانشور شامل ہیں، جس کا مقصد اسلامی امور کو فروغ دینا اور مسلمانوں کی وحدت کو مضبوط کرنا ہے، اور عالم اسلام کے علماء اور حوالہ جات کی سطح پر ایک مستقل علمی مکالمے کا نظام قائم کرنا ہے۔
