Muslim Elders

شاہ بحرین: آج ہم نے شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز کی اس تاریخی دعوت کو قبول کرتے ہووے اس اہم اور با مقصد کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تاکہ اسلامی فکر کی تجدید کی جا سکے۔

شاہ بحرین: شیخ الأزہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، نے دو سال قبل بحرین کی سرزمین پر اسلامی-اسلامی مکالمے کی کانفرنس کا تصور پیش کیا تھا۔
شاہ بحرین: آج ہم نے شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز کی اس تاریخی دعوت کو قبول کرتے ہووے اس اہم اور با مقصد کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تاکہ اسلامی فکر کی تجدید کی جا سکے۔

شاہ بحرین: اس امّت کی اتحاد کے بغیر کوئی عزت اور اقتدار نہیں ہے۔
شاہ بحرین حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے کہا ہے کہ مملکت بحرین اسلامی اسلامی مکالمہ کانفرنس کی میزبانی کرنے پر بہت خوش ہے جس کا آغاز دو سال قبل بحرین کی سرزمین سے شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز نے کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم شیخ الازہر کی اس تاریخی دعوت کو قبول کیا جس کا مقصد اسلامی فکر کی تجدید اور ایک نئے دور کی راہ ہموار کرنا ہے جو ہمیں اسلام کے جوہر کا صحیح اور ایمانداری سے اظہار کرنے اور امّت اسلامیہ کو درپیش چیلنجوں سے عقلی طور پر نمٹنے اور اس کی تہذیبی ترقی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے قابل بنائے۔
شاہ بحرین نے اسلامی – اسلامی مکالمہ کانفرنس کے مرکزی اجلاس کے دوران، جو کہ شاہی الصخير محل میں منعقد ہوا، اس بات کی تصدیق کی کہ اسلامی امت کو درپیش چیلنجز ہم سے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم ایک ایسی مشترکہ بات تک پہنچنے کے لیے مزید کوشش کریں جو ہمارے دلوں کو یکجا کرے، ہماری آواز کو متحد کرے، ہماری حمایت کو مضبوط کرے، اور تفرقہ اور اختلاف کو ختم کر دے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہماری قوم کی کوئی عزت نہیں ہے اور اس کا کوئی اقتدار نہیں ہے سوائے اس کے اتحاد اور اپنے دین پر قائم رہنے کے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی پیروی کرتے ہوئے: ﴿اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم ناکام ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی﴾.

شاہ بحرین نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اس کانفرنس کی علمی اور شرعی شراکتوں کے منتظر ہیں کہ کس طرح اعتدال پسند فکر کو پھیلایا جائے، مذہبی اور فرقہ وارانہ استحصال کو روکا جائے جو معاشروں کے استحکام اور قوموں کی خودمختاری کے لئے خطرہ ہے، اور ہمارے اسلامی معاشروں کے تمام اجزاء کو شامل کرنے کے لئے تفہیم اور قربت کے دائرے کو وسعت دینے کے لئے تمام مکاتب فکر اور نظریات سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں کی دانشمندانہ قیادت میں نئے اور سنجیدہ طریقے وضع کیے جائیں۔

شاہ بحرین نےاپنے خطاب کا اختتام اس بات پر زور دیتے ہوئے کیا کہ مملکت بحرین اس بابرکت مذہبی اجلاس کی طرف سے جاری کردہ جامع حکم کی حمایت کرے گی جو ہماری امّت اسلامیہ کو حقیقی "مذہبی بھائی چارے” کے مقصد پر متحد کرے گا، اسلامی فرقوں کے درمیان یکجہتی اور قربت کو مستحکم کرتے ہوئے، اور ان کے درمیان اختلاف کو تنوع اور تکمیل کا اختلاف سمجھتے ہوئے، اور یہ کہ جو چیز انہیں متحد کرتی ہے وہ ان کو تقسیم کرنے سے کہیں زیادہ ہے۔