Muslim Elders

ڈاکٹر احمد الحداد، رکن مسلم کونسل اف ایلڈرز، دبئی میں اسلامی امور کے شعبہ فتویٰ کے ڈائریکٹر اورامارات کونسل برائے شرعی فتویٰ کے رکن نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم کونسل اف ایلڈرزاپنے قیام کے بعد سے؛ متحدہ عرب امارات کی سرپرستی میں اور امام الاکبرپروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل اف ایلڈرز، کی زیر صدارت کونسل نے مختلف گروہوں اور لوگوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے تصورات کو قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

ڈاکٹر الحداد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ: شریعت اسلامیہ نے ایک انسانی خاندان کا اصول قائم کیا، اور اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم کونسل آف ایلڈرز ان عظیم اسلامی معنوں کو سمجھتی ہے، اور اس نے ان اسلامی معنوں کو تمام لوگوں میں پھیلانے کا ذمہ لیا۔ اور پھر اس نے انسانی بھائی چارے کی دستاویز تیار کی، یہ وہ عظیم دستاویز ہے جس پر آسمانی مذاہب کے ماننے والوں نے اتفاق کیا، اور دنیا کے دو عظیم مذاہب کے رہنماؤں نے اس پر دستخط کیے۔ جس کی نمائندگی مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سربراہ، شیخ الازہر الشریف اور ویٹیکن کے پوپ پوپ فرانسس نے کی، اوریہ دستاویز بنی نوع انسان کے لئے رب کی طرف سے ديئے گئے احکامات کی نمائندگی کرتی ہے تاکہ وہ دنیا میں خوشیاں حاصل کر سکیں۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے رکن نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل نے انسانوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینے کے لیے بہت سی کانفرنسیں، سیمینارز اور اجلاس منعقد کیے، انہوں نے واضح کیا کہ بحرین بین الاقوامی فورم میں اسلامی اور عیسائی مذاہب کے رہنماؤں اور دیگر مذاہب کے متعدد رہنماؤں کی شرکت اس مقصد کو حاصل کرنے اور انسانی بقائے باہمی کے اصول کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

بحرین، بروز جمعرات اور جمعہ 3 اور 4 نومبر کو بحرین فورم برائے مکالمہ "مشرق اور مغرب برائے انسانی بقائے باہمی” کے انعقاد کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ فورم بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کی سرپرستی میں اور أمام الأكبر ڈاکٹر احمد الطیب، شيخ الازہر، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، اور کیتھولک چرچ کے پوپ پوپ فرانسس اور دنیا کے مذاہب کے رہنماؤں اور پيشواؤں کی ایک بڑی تعداد كے علاوه مفکرین اور میڈیا شخصیات کا ایک گروپ شرکت کررہا ہے۔

اس فورم کا اہتمام مسلم کونسل آف ایلڈرز نے بحرین میں اسلامی امور کی سپریم کونسل اور شاہ حمد سنٹر براۓ پرامن بقائے باہمی نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔