Muslim Elders

مسلم کونسل اف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے امن اور انسانی بھائی چارے کے فروغ میں انصاف کے اداروں کے کردار پر زور دیا۔

مسلم کونسل اف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل مشیر محمد عبدالسلام نے بروز جمعہ ابوظہبی میں کونسل کے صدر دفتر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر جناب کریم احمد خان سے ملاقات کی۔ اور دونوں فریقوں نے مشترکہ تعاون کو بڑھانے کے طریقوں، بین الاقوامی قانون کے متنوع ورثے اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے مسلم کونسل آف ایلڈرز کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے دوران، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے یہ ظاہر کرنے کی اہمیت پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کی بنیادیں تمام مذاہب سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ تمام بنی نوع انسان کی میراث ہے، انہوں نے ان کی امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چیئرمین مسلم کونسل اف ایلڈرز کی سربراہی میں مسلم کونسل اف ایلڈرز کی عالمی سطح پر امن اور بقائے باہمی کو پھیلانے اور بہت سے انسانی مسائل اور چیلنجز کے حل تلاش کرنے میں کردار ادا کرنے پر اور میانمار کے مسلمانوں کے معاملے میں ان کی دلچسپی،اور اسلامی-اسلامی مکالمے کی دعوت، ڈینوفوبیا کا مقابلہ کرنے، لڑکیوں کے تعلیم کے حق پر زور دینے، اور امن کے قافلے بھیجھنے کی کوششوں کو سراہا۔
خان نے وضاحت کی کہ امن کے فروغ کے لیے متحدہ عرب امارات کی کوششیں بھی بہت قابل ذکر ہیں۔ اور یہ کہ کونسل کے زیر اہتمام انسانی بھائی چارہ کی ملاقات اور ابوظہبی سے تاریخی انسانی بھائی چارہ کی دستاویز کا اعلان، ان کوششوں کو ثابت کرتا ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہووے کہ اس دستاویز کے اصولوں کو پھیلانے اور انہیں بین الاقوامی قوانین اور قانون سازی میں ضم کرنے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اپنی جانب سے، مسلم کونسل اف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل، مشیر محمد عبدالسلام نے تصدیق کی کہ، امن اور انسانی بھائی چارے کو فروغ دینا مسلم کونسل اف ایلڈرز کا ایک وژن اور پیغام ہے امن اور بقائے باہمی کو فروغ دینے اور تمام انسانوں کے درمیان مکالمے، رواداری، انصاف اور مساوات کی اقدار کو پھیلانے کے لیے اس پر عمل پیرا ہے۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ابوظہبی دستاویز برائے انسانی بھائی چارہ دنیا بھر کے بہت سے ممالک اور لوگوں کے لیے دلچسپی اور تحریک کا موضوع بن گئی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ دنیا کو اس وقت جن چیلنجز کا سامنا ہے ان کی روشنی میں، انصاف کے اداروں کا معاشرتی امن کو پھیلانے اور اسے مضبوط بنانے اور مذہبی آزادیوں کے تحفظ میں اہم کردار ہے۔ انہوں نے امن کے اقدامات، رواداری اور انسانی بقائے باہمی اور نفرت اور انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے میں متحدہ عرب امارات کی کوششوں کی تعریف کی۔