قازقستان میں مذہبی رہنماؤں کی ساتویں کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران ..
مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل جج محمد عبدالسلام نے اس بات کی تصدیق کی کہ انسانی برادری کی دستاویز نے ایک ایسی امید پيدا كى جس کا مقصد عالمی امن اور بقائے باہمی ہے، کیونکہ اس کو دو اہم ترین دینی شخصیات نے تشکیل دیا جو مسلمانوں کے لیے اور مسیحیوں کے لیا اعلی ترین مذہبی رہنما ہیں جیسا کہ امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، اور کیتھولک چرچ کے سربراہ تقدس مآب پوپ فرانسس-
تا کہ یہ دنیا بھر میں تمام مذاہب کے لوگوں کے درمیان پل بنانے کی راہ میں ایک معیاری اور تعمیری قدم ہو۔ اور مذہبی رہنماؤں کو انسانی برادری کی دستاویز پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے تا کہ وہ الله تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے انسانی بھائی چارے پر اعتماد اور امید کے بیج بونے میں اپنا حصہ ڈالیں اور اپنی دنیا کو اس اجتماعی آزمائش کے اثرات سے نکال سکیں۔ مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل نے قازقستان کے دارالحکومت میں منعقدہ مذہبی رہنماؤں کی ساتویں کانفرنس میں جس کا عنوان ہے "بعد از کرونا وائرس انسانیت کی روحانی اور سماجی ترقی میں مذہبی رہنماؤں کا کردار۔” اپنے خطاب میں کہا: انسانی تاریخ میں اس طرح کے مراحل نے بہت سے اسباق دیے ہیں جیسا کہ انسان کی مرضی کو کس طرح متحرک کیا جاتا ہے۔ اور اسے زندگی کے سخت ترین حالات تخلیقی صلاحیتوں کے باوجود کیسے متاثر کرتے ہیں- اور آج انسانیت کو کسی ایسے شخص کی اشد ضرورت ہے جو اس میں امید کے بیج بوئے اور اس کے بچوں کی روحانی نشوونما میں اپنا حصہ ڈالے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ انسانیت کو جو سب سے بڑی امید دی جا سکتی ہے وہ اس کے افراد کا سکون ہے، اور وہ يه ہے كه انسانی خاندان کے فریم ورک کے اندر سب بھائی بھائی ہیں۔
جج عبدالسلام نے مزید کہا کہ کرونا وبائی مرض ایک ایسے جھٹکے کی نمائندگی کرتی ہے جس نے پوری انسانیت کو متاثر کرنے کے بعد اس بیماری کے مستقبل کی پیشین گوئی کرنے اور انسانوں، کائنات اور زندگی کی تقدیر کو کنٹرول کرنے کی مکمل صلاحیت کے دعووں میں جدید سائنس کو عاجزی کی طرف دھکیل دیا۔ کسی مذہبی یا شناختی بنیاد پر ان کے درمیان فرق کیے بغیر، اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اس کی تشکیل نے سائنس اور انسانی رویے کے ساتھ عقیدے کے تعلق کے بارے میں بھی ایک وسیع بحث کو جنم دیا۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ پوری تاریخ میں وبائی امراض کے بدترین اثرات میں سے ایک یہ ہے كه : یہ انسان کی انسانیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے، دوسروں کے لیے احساس اور ان کی حمایت کرنے جیسی نعمت کو متاثر کرتا ہے، اور انسانی ہمدردی کے بندھنوں کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان وبائی امراض کے سخت حالات نے بعض معاشروں کو جنگوں، قحط اور وبائی امراض کی صورت میں انسانی روح پر ظلم کی حد تک دھکیل دیا ہے۔
جج عبدالسلام نے وضاحت کی کہ حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں آفات کے بعد کچھ غیر انسانی مظاہر دیکھنے کو ملے ہیں۔اور ان حالات نے امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق کے بغیر سب کو متاثر کیا۔
اور یہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ روحانی ترقی اور خود انحصاری انسانیت کی مشترکہ ضرورت ہے۔ جو وبائی امراض کے دور کے بعد روحانی اور سماجی ترقی میں مذہبی رہنماؤں کے مطلوبہ کردار کو زیادہ اہم بناتا ہے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سکریٹری جنرل نے اشارہ کیا کہ وبائی امراض کے دور کے بعد مذہبی رہنماؤں کا کردار، ان چیزوں پر ہے جیسا کہ یہ بہت سے لوگوں کی زندگیوں پر انفرادیت کی اقدار کے جبر کے خطرے کی انتباہ کرنا، اوریہ چیز کس طرح ایک دوسرے کے درمیان ہمدردی مٹا سکتی ہے، اور کس طرح کھپت کی تسکین بخش خواہشات کے بھنور میں پھینک سکتی ہے۔ اور ضرورت اس بات کی ہے کہ لذتوں اور اشیا کی زیادتیوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا جائے جس سے انسانی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔
جج عبدالسلام نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسائل ہمیشہ سے ہی مسلم کونسل آف ایلڈرز کى توجه کا مرکز رہے ہیں، جیسا کہ امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز کی فوری اور پے در پے مطالبه كه وبائی مرض کے پورے دور میں الله تعالیٰ سے پرامید رہنا، اور دنیا بھر کے لوگوں کے درمیان تعاون کرنا، جیسا کہ امام الاکبر کا اس بات پر زور دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ایک کو منصفانہ اور مساوی طریقے سے کرونا سے حفاظتی ويكسينيش کا حق ہے.
