مکالمے اور انسانی بقائے باہمی کو فروغ دینے کی کوششوں کے اعتراف میں یونیورسٹی آف ہیومینیٹیز اینڈ لاء نے مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل کو اعزازی پروفیسر شپ سے نوازا.
بروز جمعہ، قازقستان میں یونیورسٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لاء نے مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل، جج محمد عبدالسلام کو بقائے باہمی، مکالمے اور انسانی بھائی چارے کو فروغ دینے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اعزازی پروفیسر شپ سے نوازا۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سکریٹری جنرل نے "عالمی چیلنجوں کی روشنی میں قانونی بنیادوں پر امن قائم کرنے كيلئے مکالمہ” کے عنوان سے اپنی تقریر میں کہا: "میں قابل قدر KAZGUU یونیورسٹی فار ہیومینٹیز اینڈ لاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے اعزازی پروفیسر شپ، اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اس اعزاز پر فخر كرتے ہیں۔ کیونکہ اس کا تعلق تعلیم سے ہے جو کہ زندگی میں سب سے باعزت کردار ہے۔.
جج عبدالسلام نے مزید کہا کہ اس اعزاز کی اہمیت اس جگہ کی علامت سے بھی عيا هوتی ہے، جو یہ ہے کہ اعزازی تقریب کی میزبانی کرنے والا ہال مرحوم حکیم الامت شیخ زید بن سلطان النہیان كے نام سے موسوم ہے، ۔ وہ ممتاز شخصیت جس نے اپنے معاشرے میں رواداری اور تکثیریت کی اقدار کو استوار کرنے کے لیے محنت اور خلوص سے کام کیا، اور رواداری اور بقائے باہمی کا ایک ممتاز نمونہ قائم کیا۔ یہ متحدہ عرب امارات ہی ہے جو پوری دنیا میں امن اور رواداری کے مقاصد کی خدمت کی مشعل بردار تھا اور اب بھی ہے۔
سکریٹری جنرل نے نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کی اہمیت پر زور دیا، اور یہ کہ وہ قابل تجدید توانائی اور مستقل امید کا ذریعہ ہیں، خاص طور پر طالب علم جو خیالات میں جان ہونے کا ذریعہ ہیں، اور زندگی کے تمام شعبوں میں ایک بہتر مستقبل کے لیے امنگوں اور امیدوں کا مجموعہ ہیں۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے كه آج ہمیں بے دريغ معلومات کے دور میں اور اس کے زبردست بهاؤ میں جس میں ذہن معلومات کے نہ ختم ہونے دريا میں بہہ گئے ہیں نوجوانوں کے ساتھ مکالمے اور ان کے ساتھ آراء اور خیالات کے تبادلے کی ضرورت ہے، ۔ معلومات كا ايسا بهاؤ جو ان کو غور و فکر اور حکمت سے محروم کرتا ہے جو ان كو گہرے اور زیادہ اہم سوالات پوچھنے کی اجازت دیتا ہے، اور ایسے نظارے پیدا کرتا ہے جو انسان کے لیے بہتر مستقبل کی طرف سوچ کے افق کو کھولتا ہے۔
جج عبدالسلام نے اشارہ کیا کہ مسلم کونسل آف ایلڈرز امن اور انسانی بقائے باہمی کی اقدار کو پھیلانے کے لیے نوجوانوں کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ کونسل ایک ایسے وژن سے دنیا کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نکلی جو انصاف کو امن کی بنیاد اور اس کی تعمیر اور تسلسل کے لیے شرط سمجھتی ہے۔ کونسل کی کوششوں کے نتیجے میں متعدد عالمی اقدامات سامنے آئے جنہوں نے انسانیت کی خدمت کے لیے اہم واقعات کی تشکیل کی، اور اس کا اختتام ابوظہبی تاریخی دستاویز برائے انسانی بھائی چارے پر امام الاکبر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، مسلم کونسل آف ایلڈرز کے چیئرمین، اور ان کے بھائی، تقدس مآب پوپ فرانسس، کیتھولک چرچ کے پوپ کے درمیان متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی سرپرستی میں دستخط پر ہوا۔
اپنی تقریر کے اختتام پر، مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل نے نوجوان مسلمانوں سے پرامید رہنے اور علم کی راہ پر گامزن رہنے اور مذاہب کی اقدار پر قائم رہنے پر زور دیا۔ تاکہ انسان چیلنجوں کا سامنا کر سکے، اور ان سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کر سکے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر توانائیاں اور صلاحیتيں رکھی ہے، اور جو کچھ اس نے اس پر نازل کیا ہے، اور جو اس نے اس کے اندر ایمان اور علم كا نور روشن کیا ہے۔ یہ سب سے قیمتی اثاثہ اور سب سے قیمتی امانت ہے جسے وہ بہتر مستقبل کے لیے رکھتا ہے۔
