ازبکستان میں مسلم انتظامیہ کے صدر اور مسلم کونسل آف ایلڈرز کے رکن شیخ نور الدین خالق نظر نے کہا کہ انسان کی زندگی میں سب سے قیمتی چیز اس کا اپنے رب کے ساتھ تعلق ہے، یہ ایسی روشنی ہے جو اس کی راہ کو منور کرتی ہے، اور یہ وہ ذریعہ ہے جس سے وہ دنیا اور آخرت میں قوت، سکون اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ یہ تعلق صرف ایک عبادت نہیں ہے بلکہ محبت، اطاعت اور عزت پر مبنی ایک گہرا روحانی رشتہ ہے۔
انہوں نے رمضان پروگرام "دانشوروں کے ساتھ انسانی اقدار” کی گیارہویں قسط میں، جو مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سوشل میڈیا صفحات پر نشر کیا جارہا ہے، اور کہا کہ ایمان وہ بنیاد ہے جس پر الله تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم ہوتا ہے، اس یقین کہ ساتھ کے الله تعالیٰ ہی خالق ہے، انتظام کرنے والا ہے، رحیم ہے، اور انصاف کرنے والا ہے۔ جب ایمان دل میں موجود ہوتا ہے تو یہ ایک محرک بن جاتا ہے، جو بندے کو محبت سے اپنے رب کی عبادت کرنے پر راغب کرتا ہے، نہ صرف سزا کے خوف سے بلکہ اس کی رضا اور قربت کی خواہش کی وجہ سے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز کے رکن نے مزید کہا کہ عبادت بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کی بنیادی بات ہے، اور یہ توحید کی حقیقت اور الله کی اطاعت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قران کریم میں فرماتے ہیں کہ "میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف عبادت کے لئے پیدا کیا۔” [الذاريات: 56] عبادت صرف نماز اور روزے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہر اس عمل کو شامل کرتی ہے جو بندہ اپنی روزمرہ زندگی میں اللہ کے قریب آنے کی نیت سے کرتا ہے، اور یہ الله تعالیٰ کے نزدیک پہنچنے کا سب سے مختصر راستہ ہے۔ جتنا زیادہ عبادت کی جائے گی، بندے کا اپنے رب کے ساتھ تعلق اتنا ہی مضبوط ہوگا، اور اتنا ہی اندرونی سکون حاصل ہوگا۔ دعا بندے اور اس کے رب کے درمیان براہ راست رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اور یہ ہر وقت اللہ کی طرف رجوع کرنے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے، خواہ وہ مشکل وقت ہو یا خوشحالی کے لمحات؛ بندہ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اللہ کی ضرورت اور اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا ایک پہلو نعمتوں پر شکر ادا کرنا ہے، یہ الله تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اس کے فضل کے سامنے سرنڈر کرنا ہے۔ شکر صرف زبانی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ اعمال بھی ہونے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا اور اگر تم کفر کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔[إبراهيم: 7] بندے کو اپنے رب کے ساتھ تعلق میں سب سے اہم صفت صبر رکھنی چاہیے، کیونکہ یہ بندے کے ذریعہ اپنی زندگی میں مصیبتوں اور امتحانات کا سامنا کرنے کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر بندہ اپنے رب کے ساتھ تعلق کو ترتیب دینے میں کامیاب ہو جائے تو اس کو اللہ کے ہاں بلند مقام اور اعلیٰ درجہ حاصل ہوتا ہے۔
رمضان المبارک کے دوران مسلم کونسل اف ایلڈرز کے صفحات پر ۵ رمضان پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں، جن میں "امام طیب”، "ایک امت، "دانشوروں کے ساتھ انسانی اقدار”، "بقائے باہمی کا مہینہ”، اور "ہمارے اخلاق” شامل ہیں۔ یہ کونسل کی میڈیا حکمت عملی کے تحت ہے جس کا مقصد مکالمے، امن، رواداری، اور انسانی بقائے باہمی کی اقدار کو پھیلانا اور فروغ دینا ہے۔
