Muslim Elders

زبردست سرکاری اور عوامی دلچسپی اور موجودگی میں … 4 اکتوبر کو… انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کی موجودگی میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر بات کرنے کے لیے مسلم کونسل آف ایلڈرز کی ایک کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب شیخ الازہر چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز کی صدارت میں جنوب مشرقی ایشیا میں مختلف مذاہب کے 150 مذہبی نمائندوں کے ساتھ ساتھ سائنس دانوں، مفکرین اور موسمیاتی تبدیلی کے مسائل سے وابستہ نوجوانوں کی موجودگی میں موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے میں مذاہب کے کردار پر تبادلہ خیال کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہے جس کا موضوع ہے : "ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے مذہبی اقدار اور مقامی ثقافتوں کو زندہ کرنے کی کوشش۔”

مسلم کونسل آف ایلڈرز سیکرٹری جنرل، عزت مآب مشیر محمد عبدالسلام نے کہا کہ یہ کانفرنس کونسل آف مسلم ایلڈرز کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو کم کرنے اور اس کے خطرات سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے مختلف مذاہب کے نمائندوں کے خیالات کے ساتھ شراکت پر مکالمے کے لیے منعقد کی جانے والی کانفرنسوں کے سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ یہ علاقائی کانفرنس مذہبی رہنماؤں اور شخصیات کے عالمی سربراہی اجلاس کی تیاری کے لیے ہے، جو 6 اور 7 نومبر کو ابوظہبی میں منعقد ہو گی۔ جو COP28 کانفرنس کی تیاری کا حصہ ہے، جس کی میزبانی متحدہ عرب امارات اس سال کے آخر میں کرے گا۔ فریقین کی کانفرنس کی تاریخ میں پہلی بار، مسلم کونسل آف ایلڈرز ایک "انٹر فیتھ پویلین” کا اہتمام کر رہی ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بین المذاہب مکالمے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے رکن اور انڈونیشیا کے سابق وزیر مذہبی امور محترم ڈاکٹر محمد قریش شہاب نے کہا کہ آج دنیا کو قدرتی اور ماحولیاتی نقصانات کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کا سامنا ہے، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات موجود ہیں جو خشک سالی، گلوبل وارمنگ، انٹارکٹیکا میں برف کے پگھلنے، اور سمندر کے پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کی صورت میں پہلے سے ہی موجود ہیں اور یہ کہ یہ ہم سب افراد، گروہوں، تنظیموں، معاشروں اور مختلف مذاہب کو ماحولیاتی صفائی میں اپنی دلچسپی بڑھانے اور بڑے پیمانے پر آلودگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششیں اب صرف سائنسی اور تکنیکی پہلوؤں تک محدود نہیں رہیں۔ بلکہ اس انسانی مسئلے کے متعلق آگاہی کے لیے مذہبی شخصیات، مذہبی اسکالرز اور دانشوروں کے کردار کی بھی اشد ضرورت ہے۔

کونسل آف مسلم ایلڈرز کے ایگزیکٹو آفس کے رکن ڈاکٹر محمد زین المجد نے کہا کہ یہ کانفرنس جس میں انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ، فلپائن، ویتنام، میانمار اور کمبوڈیاکے ممالک سے ایک وسیع سرکاری، عوامی اور مذہبی موجودگی ہو گی ، کئی اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کرے گی، جیسا کہ : ریاست اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز: ویژن، حکمت عملی اور عمل؛ گرین مذہبیت کی طرف: مذہبی عقائد ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں سماجی بیداری کیسے پیدا کرتے ہیں؟ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مذہبی اداروں اور شخصیات کا کردار، ماحولیاتی بحران اور موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے میں مذہبی بیداری کی پالیسی کی فوری ضرورت، مذہب، سائنس اور موسمیاتی تبدیلی: تناظر اور تجربات؛ زمین کو بچانے کے لیے متحد ہو جائیں : ماحولیاتی بحران اور موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لیے دنیا کے ممالک کے درمیان ضمیر، ذمہ داری اور تعاون کو متحد کرنا.

یہ کانفرنس انڈونیشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں ہونے والے اچھے تجربات کی بنیاد پر موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بڑھانے کے لیے متعدد اسٹریٹجک اور موثر سفارشات پیش کرے گی۔ جوآئندہ نومبر میں ابوظہبی میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے مذہبی رہنماؤں اور شخصیات کے عالمی سربراہی اجلاس میں پیش کیا جائے گا، اور اسے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے جنرل سیکرٹریٹ میں بھی پیش کی جائیں گی ۔ اس علاوہ یہ سفارشات موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے سیکرٹریٹ، اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ، موسمیاتی تبدیلی پر ایشیا-ورلڈ کانفرنس کے فورم پر بھی پیش کی جائیں گی.

یاد رہے کہ مسلم کونسل آف ایلڈرز ایک آزاد بین الاقوامی ادارہ ہے جس کی سربراہی امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب شیخ الازہر چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز کر رہے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کمیونٹیز کے اندر پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے 2014 میں ابوظہبی میں اس کا قیام عمل میں آیا۔

کونسل اپنی رکنیت میں امت کے متعدد علماء، دانشور ، اور قابل ذکر افراد کو شامل کرتی ہے جو انصاف اور اعتدال کی خصوصیت رکھتے ہیں، اور جو انسانوں کے درمیان رواداری، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی اقدار کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں بروئے کار لاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، کونسل ماحولیاتی تبدیلیوں اور ماحولیات سے متعلق مسائل پر بھی بہت زیادہ توجہ دیتی ہے جو کہ انسانیت کو درپیش سنگین چیلنجوں میں سے ایک ہے۔