انسانی بھائی چارہ کی دستاویز ہماری جدید تاریخ میں امن کے قیام کی طرف اٹھائے گئے اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہے۔
ممسلم کونسل اف ایلڈرز بین الاقوامی امن کے قیام اور انسانی بقائے باہمی کی اقدار کے فروغ کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔
مسلم کونسل اف ایلڈرزکے سیکرٹری جنرل، جج محمد عبدالسلام نے اس بات کی تصدیق کی کہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے پیروکاروں کے درمیان مکالمہ ایک اہم ترین مسئلہ ہے جس پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے، خاص طور پر ان چیلنجوں کی روشنی میں جن کا آج دنیا مشاہدہ کر رہی ہے جن کے انسانی صورتحال پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ابوظہبی دستاویز برائے انسانی بھائی چارہ بین المذاہب مکالمے کے عروج کی نمائندگی کرتی ہے، اس کے علاوہ یہ ہماری جدید تاریخ میں امن کے قیام کی طرف اٹھائے گئے اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہے۔
جج عبدالسلام نے ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے اور امن کی طرف روابط کی تعمیر پر ساتویں بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے دوران جس میں چیک کے وزیر خارجہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے ممالک کے دانشوروں اور سفیروں کی موجودگی میں منعقد ہوا اپنے خطاب میں کہا کہ: انسانی بھائی چارے کی دستاویز جس پر امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹراحمد الطیب شیخ الازہر، چیرمین مسلم کونسل اف ایلڈرز اور کیتھولک چرچ کے پوپ تقدس مآب پوپ فرانسس نے عزت مآب شیخ محمد بن زید ال نہیان، صدرمتحدہ عرب امارات کی سرپرستی میں، اور مسلم کونسل آف ایلڈرز کے زیر اہتمام دستخط کیے ہیں۔ یہ جدید انسانی تاریخ میں بین المذاہب تعلقات کی تاریخ میں سب سے اہم پيشرفت کی نمائندگی کرتا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس لمحے سے ایک مشترکہ خواہش سامنے آئی ہے جو آنے والی نسلوں کو پرامن بقائے باہمی کے راستے پر چلنے کی رہنمائی کرے گی اور انسانی بھائی چارے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ جس نے ہمارے معاشروں میں کاغذ پر محض الفاظ کو حقیقی اعمال میں تبدیل کیا، اور دستاویز کا مواد اب دنیا بھر کے اسکولوں کے نصاب میں پڑھایا جاتا ہے، اور طلباء کو ہر روز دنیا بھر کے کلاس رومز میں انسانی بھائی چارے کی اقدار سے متعارف کرایا جاتا ہے۔ اس دستاویز کا مطالعہ مصر کی جامعہ الازہر اور جامعہ الازہر کے تعلیمی اداروں میں 1.5 ملین سے زیادہ طلباء نے کیا ہے۔ اور متحدہ عرب امارات، لبنان، اٹلی، امریکہ اور دیگر ممالک کی یونیورسٹیوں اور اسکولوں نے اس دستاویز کو اپنے نصاب میں شامل کیا ہے۔ یہاں تک کہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک مشرقی تیمور نے بھی اس دستاویز کو قومی اعلامیہ کے طور پر اپنایا۔
جج عبدالسلام نے مزید کہا کہ دستاویز پر دستخط کا دن بھی ایک بین الاقوامی دن بن گیا ہے جسے ہم ہر سال مناتے ہیں۔ جہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی برادری کی دستاویز کو اپنایا، اور 4 فروری کو انسانی برادری کے سالانہ عالمی دن کے طور پر بیان کرنے والی ایک قرارداد جاری کی۔ اور اس دستاویز کے کارناموں میں سے ایک یہ کہ اس نے ایک بین الاقوامی ایوارڈ کے اجراء کی تحریک دی جسے زید ایوارڈ برائے انسانی بھائی چارہ کہا جاتا ہے، جو ایک عالمی ایوارڈ ہے جو انسانی بھائی چارے کی اقدار کو عملى شكل دينے والے افراد اور تنظیموں کو نوازا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کے آغاز کے بعد سے گذشتہ چار برسوں میں، اس ایوارڈ سے سینئر رہنماؤں اور کمیونٹی کے کارکنوں، خاص طور پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور یورپ اور ہیٹی میں مقبول تنظیموں کو نوازا گيا ہے۔
سکریٹری جنرل نے نشاندہی کی کہ مسلم کونسل اف ایلڈرز حکومتوں کے سینئر نمائندوں اور حکومتوں کے درمیان فعال تنظیموں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں پرامن بقائے باہمی پر زور دیتی تھی اور دیتی ہے۔ اور حکام پر زور دیتی ہے کہ وہ تنازعات پر امن کو ترجیح دیں، اور مذہب کی بنیاد پر سفارت کاری کو آگے بڑھائیں جو تنازعات کے فریقین کے درمیان مفاہمت کے حصول کے لیے بین الاقوامی امن سازی کی کوششوں میں مذہبی عقیدے کے كردار کو مربوط کرتا ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس سال کے شروع میں مسلم کونسل اف ایلڈرز نے ابوظہبی میں یورپی یونین کے سفیروں اور نمائندوں کے ساتھ انسانی بھائی چارے کی دستاویز اور اس کی اقدار پر تبادلہ خیال کے لیے ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ اس تقریب نے سفارت کاروں کے لیے عالمی سطح پر اور یورپ میں انسانی برادری کے فروغ کے بارے میں گہری معلومات حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
جج عبدالسلام نے نشاندہی کی کہ انسانی برادری کی دستاویز انسانیت کی کتاب میں لکھے گئے ایک نئے صفحے کی نمائندگی کرتی ہے، اور ایک نئی شروعات جس میں تعاون تنازعات کی جگہ لیتا ہے، علم تعصب پر غالب ہے، اور مختلف ثقافتوں، پس منظر اور عقائد کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ امام الاکبر شیخ الازہر، انسانی بھائی چارے كى دستاویز کو :”مختلف لوگوں کے درمیان تعلقات کو آراستہ کرنے کے لئے الله کی طرف سے قانون سازی کا اصول۔” کے طور پر دیکھتے ہیں اور جیسا کہ تقدس مآب پوپ فرانسس نے انسانی بھائی چارے كى دستاویز کو "انسانیت کے لئے نيا افق” کہا ہے۔ لہٰذا ہم سب کو انسانی تاریخ میں اس نئے باب کو لکھنے کے لیےشانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔ جہاں ہم سب ہاتھ ملا کر کھڑے ہوں، اور ایک بہتر مستقبل کے لئے روابط قائم کریں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر، سیکرٹری جنرل نے اس کانفرنس کو منعقد کرنے والى ذمہ دار تنظیموں کا شکریہ ادا کیا، جن کی قیادت چیک کی وزارت خارجہ، اسلامی تعاون تنظیم، بین الاقوامی تعلقات کے ادارے، اور اینا لِنڈ فاؤنڈیشن نے کی۔
