انسانی بھائی چارے کی دستاویز کے عنوان سے بقائے باہمی اور رواداری کو فروغ دینے کی کوششوں میں انڈونیشیا میں مذہبی رہنماؤں کو کوششوں کو تحریک دیتا ہے۔۔
انڈونیشیا میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کے بیرونی دفتر نے انسانی بھائی چارے کے عالمی دن کی تقریبات کے موقع پر متعدد تقریبات اور سائنسی سیمینارز کا انعقاد کیا۔
جو کہ امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چیئرمین مسلم کونسل اف ایلڈرز، اور کیتھولک چرچ کے پوپ مقدس پوپ فرانسس کے ابوظہبی میں 2019 میں انسانی بھائی چارے کی دستاویز پر دستخط کی سالگرہ کا دن ہے ۔
انڈونیشیا میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کے بیرونی دفتر نے وزارت مذہبی امور کے تعاون سے
3 فروری 2023 کو انڈونیشیا کی مساجد میں "انسانی بھائی چارے کا تصور” کے خطبہ جمعہ کے متن کی تیاری کی ور اسے تمام مساجد میں تقسیم کیا بشمول جکارتہ کی استقلال مسجد (جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد) اور انڈونیشیا کے بہت سے ٹیلی ویژن چینلز نے اس کو نثار بھی کیا، انسانی بھائی چارے کی دستاویز کا متن انڈونیشی زبان میں بھی ترجمہ کیا گیا، جسے سولو آئی لینڈ کی شیخ زید مسجد سمیت کئی بڑی مساجد میں تقسیم کیا گیا۔
دارالحکومت جکارتہ کی آتما جیا کیتھولک یونیورسٹی میں ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا جس میں متعدد مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ جس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ حقیقی بھائی چارہ انسانی مسائل پر قابو پانے کے لیے مشترکہ عمل کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ جہاں سمپوزیم کے شرکاء نے بشپ رومو اگسٹینس ہیری وِبوو (کیتھولک چرچ کے نمائندے) کی موجودگی میں انڈونیشیا کی پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کی تیاری کے لیے انسانی بھائی چارے کی دستاویز کے اصولوں سے متاثر ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔
اور جناب اولی الابصار عبداللہ (نمائندہ نهضة العلماء ایسوسی ایشن)، مسٹر بھیکو داما سوبو مہاتیر (نمائندہ بدھ مذہب)
اور جناب عبدالرحیم غزالی (نمائندہ انجمن محمدیہ) اور دیگر افراد بھی شامل تھے۔
بالی جزیرے پر انڈونیشیا میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کے بیرونی دفتر نے ہندو یونیورسٹی آف بنگلی میں ایک علمی سمپوزیم کا اہتمام کیا۔ جہاں شرکاء نے انسانی بقائے باہمی کو فروغ دینے اور نفرت انگیز تقاریر، عدم برداشت اور امتیازی سلوک کا مقابلہ کرنے میں حضرت امام الطیب اور تقدس مآب پوپ فرانسس کی کوششوں کو سراہا،
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے 4 فروری کو انسانی بھائی چارے کے بین الاقوامی دن کے طور پر اپنانا پوری دنیا کے لوگوں کی سلامتی اور امن کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔
سمپوزیم کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان پر متعدد مذہبی رہنماؤں نے دستخط کئے۔ جن میں:
ڈاکٹرمخلص محمد حنفی مسلم کونسل آف ایلڈرز کی جانب سے (مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے)
ڈاکٹرای گستی آوارہ سودھیان ہندو یونیورسٹی سے (ہندوؤں کی نمائندگی کرتے ہوئے) اور صوبہ بالی کے پروٹسٹنٹ چرچ سے مسٹر "جسٹس ابراہم لاوالتا” (پروٹسٹنٹ ازم کی نمائندگی کرتے ہوئے)
اورپاپ "Avensius Diwantoro”، بالی میں سینٹ فرانسس کے ڈائیسیس کے پادری، اور ریورنڈ کریونو گووندا، بدھ مذہب کی جانب سے، اور مسٹر ایڈیناٹا،صوبہ بالی میں کنفیوشس مذہب کی سپریم کونسل کے چیئرمین۔
اور سمپوزیم سے سابق وزیر مذہبی امور جناب لقمان حکیم سیف الدین نے بھی خطاب کیا۔ اور شیخ عبدالعزیز محمود، انڈونیشیا میں الازہر مشن کے رکن۔
سوراکارتا شہر میں ڈی مظفر صدر ریاستی اسلامی یونیورسٹی سورکارتہ نے تصدیق کی کہ انسانی بھائی چارہ کی دستاویز کئی عالمی رہنماؤں کے لیے ایک تاریخی اور متاثر کن دستاویز ہے،
انہوں نے مزید کہا کہ سمپوزیم میں مختلف مذاہب اور قبائل سے تعلق رکھنے والے شرکاء کی اس بڑے اجتماع کی موجودگی انسانی بھائی چارے کی اقدار سے ہماری وابستگی کا ثبوت ہے۔ سمپوزیم میں مختلف مذاہب کے شہر کی اہم شخصیات نے شرکت کی اور سمپوزیم کے اختتام پر انہوں نے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے جس میں انہوں نے ابوظہبی دستاویز برائے انسانی بھائی چارہ کے تنازعات اور تشدد کو اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں حل کرنے کے لیے متاثر کن ہونے کی تصدیق کی۔ اور وہ عالمی امن کے حصول کے لیے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کو مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں اور وہ رواداری اور باہمی احترام پر غالب انسانی تہذیب کے تسلسل کے لیے اپنے اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔
انسانی بھائی چارہ کے عالمی دن کی تقریبات کے موقع پر تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور تعاون کے مرکز کے تعاون سے/ CDCC اور بین مذہبی کونسل/ IRC-انڈونیشیا اورنهضة العلماء ایسوسی ایشن اور محمدیہ ایسوسی ایشن کی شرکت سے جکارتہ میں پارلیمنٹ کی عمارت میں ایک سمپوزیم منعقد کیا جائے گا جس میں تقریباً 1,000 مذہبی، سیاسی اور علمی شخصیات کی موجودگی میں؛ جبکہ انڈونیشیا کی عوامی مشاورتی اسمبلی کے صدور کی طرف سے تقریر کی جائیں گی جو انڈونیشیا میں آٹھ مذہبی کونسلوں میں سے ہر ایک کے صدر ہیں۔ جن میں دو سب سے بڑی اسلامی تنظیموں (نهضة العلماء اور محمدیہ) کے صدورشامل ہیں؛ اور انڈونیشی زبان میں انسانی بھائی چارہ کی دستاویز کی ترجمہ شدہ کاپیاں تقسیم کی جائیں گی۔
انڈونیشیا میں علمی، مذہبی، قانون سازی اور انتظامی اداروں کے تعاون سے مسلم کونسل آف ایلڈرز کے بیرونی دفتر کی طرف سے منعقد کیے جانے والے ان تقریبات کو انڈونیشیا کے اہم ترین میڈیا کی جانب سے خاصی توجہ اور ممتاز کوریج ملی۔ جس میں سرکاری خبر رساں ایجنسی اور کئی اہم اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز شامل ہیں۔
