اسلامی-اسلامی مکالمہ کانفرنس میں مذہبی اور فکری حوالہ جات نے نفرت کی ثقافت کے خاتمے اور باہمی افہام وتفہیم کے فروغ کی دعوت دی۔
اسلامی مکالمہ کانفرنس نے نوجوانوں کی خواہشات کے مطابق اسلامی مکالمے کے لیے نئی حکمت عملی کی سفارش پیش کی۔
اسلامی فرقوں کے درمیان توہین اور لعنت کو جرم قرار دینے پر اسلامی اتفاق رائے۔ اسلامی مکالمہ کانفرنس کے نتائج۔
اسلامی مکالمہ کانفرنس کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان معاہدے کے مشترکات کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ایک علمی منصوبے کی تکمیل کی دعوت۔
اسلامی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی مکالمہ کانفرنس سے شروع ہونے والی نوجوانوں کی کوششیں۔
شیخ الأزہر اور اسلامی مکالمہ کانفرنس کے شرکاء نے ایک روشن خیال دعوتی خطب کی تشکیل کی سفارش کی جو اہل قبلہ کی پکار سے متاثر ہو۔
اسلامی مکالمہ کانفرنس نے قاہرہ میں اسلامی مکالمے کے دوسرے اجلاس کے انعقاد کا اعلان کیا۔
مملکت بحرین میں 19 اور 20 فروری 2025 کو “ایک قوم اور ایک مشترکہ منزل” کے عنوان کے تحت اسلامی – اسلامی مکالمہ کانفرنس کا پہلا ایڈیشن اختتام پذیر ہوا، جو شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، شاہ بحرین کی سرپرستی اور فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الأزہر شریف، چیئرمین مسلم کونسل اف ایلڈرز کی موجودگی میں 400 سے زائد اسلامی علماء اور مختلف فکری مکاتب سے تعلق رکھنے والے شخصیات کی شرکت سے منعقد ہوا۔
کانفرنس کے اختتامی بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امت مسلمہ کا اتحاد ایک عہد اور میثاق ہے، اور اسلامی اخوت کے تقاضوں کو پورا کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔ مزید یہ کہ آج جس مکالمے کی ضرورت ہے وہ نظریاتی مکالمہ یا فرقوں کے درمیان قریب ہونے کا مکالمہ نہیں ہے، بلکہ افہام و تفہیم اور تعمیر کا مکالمہ ہے، جو مسلمانوں کے درمیان مشترکہ مفادات کو فروغ دیتا ہے تاکہ وہ عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں، اور مکالمے کی آداب اور اخلاقیات کی پاسداری کی جائے۔
بیان میں مسلمانوں کے درمیان نفرت اور عداوت کی ثقافت کو ختم کرنے کے لیے مذہبی، فکری اور میڈیا کے حوالوں کے درمیان تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اور خودی تنقید کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تاکہ فکری اور ثقافتی کوششوں کا جائزہ لیا جا سکے اور جن چیزیوں میں ترمیم کی ضرورت ہیں انہیں درست کیا جا سکے، تا کہ پہلے ائمہ اور علماء کی شروعات کو جاری رکھا جائے۔ اسلامی فرقوں کے درمیان بدسلوکی اور لعنت کو جرم قرار دینے پر زور دیتے ہوئے، اس بیان میں وضاحت کی کہ اسلام غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کو ساتھ بھی بدسلوکی کرنے سے منع کرتا ہے، تو جو لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، وہ کچھ فقہی مسائل میں اختلاف کے باوجود ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟
اختتامی بیان میں اسلامی کوششوں کو فلسطینی کاز کی حمایت، ناجائز قبضہ کے خلاف مزاحمت، اور غربت و انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی گئی۔ یہ بات واضح کرتے ہوئے کہ ان اہم مسائل میں تعاون اسلامی بھائی چارے کی چھتری تلے ثانوی اختلافات کو ختم کر دے گا، کانفرنس نے ایک جامع علمی منصوبے کی تکمیل کی سفارش کی جو مسلمانوں کے درمیان عقیدے، شریعت اور اقدار میں مشترکات کو دستاویزی شکل دے، تاکہ یہ ایک ایسا حوالہ بن سکے جو مشترکہ اسلامی شعور کو بڑھائے اور امت کے افراد کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرے۔
بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ خواتین اسلامی اتحاد کی اقدار کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، چاہے وہ خاندان کے ذریعے ہوں یا علمی اور معاشرتی شعبوں میں ان کی موجودگی کے ذریعے، تفہیم کی ثقافت کو تعلیمی نصاب، مذہبی خطبات، میڈیا پلیٹ فارمز اور ترقیاتی منصوبوں میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا، اور کانفرنس نے اسلامی مکالمے کے لئے ایک نئی حکمت عملی تیار کرنے کی بھی سفارش کی جس میں نوجوانوں کے مسائل کو مدنظر رکھا جائے، اور مذہبی خطاب کے ساتھ ان کے تعامل کو یقینی بنانے اور بدلتی ہوئی دنیا میں ان کی اسلامی وابستگی کو بڑھانے کے لئے جدید ڈیجیٹل اور تکنیکی ذرائع پر انحصار کیا جائے۔
بیان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو اکٹھا کرنے اور ان کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے نوجوانوں کے پروگراموں اور اقدامات کے انعقاد کی دعوت دی گئی، ساتھ ہی مغرب میں مسلم نوجوانوں کو ان کے اسلامی ورثے سے جوڑنے اور مختلف مذاہب کے درمیان تعاون میں رکاوٹ بننے والے باہمی دقیانوسی تصورات کو ختم کرنے پر زور دیا گیا۔ کانفرنس نے ‘ایک امّت اور ایک مشترکہ منزل’ کے عنوان کے تحت اہل قبلہ کی دعوت سے متاثر ہو کر ایک تبلیغی خطبہ تیار کرنے کی بھی سفارش کی، اور اسلامی مکالمے کے لیے ایک رابطہ قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ امّت کے عناصر کے درمیان بغیر کسی کو خارج کیے رابطے کے راستے ہموار ہوسکیں۔
فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الأزہر نے قاہرہ میں اسلامی مکالمے پر دوسری کانفرنس کے انعقاد کے لئے الازہر الشریف کے تعاون سے تیاریاں شروع کرنے کا اعلان کیا۔ جو اسلامی اتحاد کے فروغ میں اس نقطہ نظر کے تسلسل کی تصدیق ہے۔
کانفرنس کے شرکاء نے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کو کانفرنس کی اعلی ٰ سرپرستی پر خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے امام اکبر شیخ الازہر کی مخلصانہ دعوت اور موثر تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس اہم کانفرنس کی تیاری اور انعقاد میں بحرین میں اسلامی امور کی سپریم کونسل اور مسلم کونسل آف ایلڈرز کی کاوشوں کو سراہا۔
