Muslim Elders

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے قیام کے 12 سالمکالمے، امن اور انسانی اخوت کے فروغ کے لیے ایک مسلسل سفر اور نئی بصیرت

12 years of muslim council of elders promoting peace

مسلم کونسل آف ایلڈرز، فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف کی سربراہی میں، اپنے قیام کے بارہ سال مکمل ہونے کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر مکالمے کے فروغ، انسانی اخوت کے استحکام، امت کے اتحاد، امن و رواداری کی ثقافت کے فروغ، غلط فہمیوں کے ازالے، نفرت، تعصب، انتہا پسندی اور اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد، اور معاصر انسانی و فکری چیلنجوں سے نمٹنے میں مذہبی قیادت کے کردار کو مضبوط بنانے کے اپنے مشن کو جاری رکھے گی۔

کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ 19 جولائی 2014 کو ابوظہبی میں اپنے قیام کے بعد سے وہ مکالمے اور انسانی بقائے باہمی کے فروغ کے لیے دنیا کے نمایاں بین الاقوامی اداروں میں شمار ہونے لگی ہے۔ مختلف معیاری اقدامات، عالمی کانفرنسوں، فکری دستاویزات اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے ذریعے اس کے اثرات دنیا کے مختلف براعظموں تک پہنچے ہیں، جس سے رواداری، باہمی اعتماد اور تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملا ہے۔

نمایاں اقدامات
مسلم کونسل آف ایلڈرز نے متعدد اہم اور مؤثر پروگراموں کا آغاز کیا، جن میں شامل ہیں: مشرق اور مغرب کے درمیان مکالمہ، بین الاقوامی امن قافلے، امن سازوں نوجوانوں کا فورم، عالمی طلبہ مکالمہ پروگرام، بچوں کے لیے اخلاقی تعلیم فیلوشپ پروگرام، انسانی اخوت کونسل، ترقی اور امن کے لیے بین المذاہب اتحاد، "وہ پل جو ہمیں جوڑتے ہیں” اقدام رمضان مشن پروگرام برائے اعتدال پسند اسلامی فکر کی ترویج، مزید برآں، کونسل نے COP28 اور COP29 موسمیاتی کانفرنسوں میں (بین المذاہب پویلین) کا انعقاد کیا، جس سے عالمی مسائل کے حل میں مذہبی رہنماؤں کا کردار مزید نمایاں ہوا۔

کونسل کی سرگرمیوں میں متعدد اہم عالمی اجتماعات کا انعقاد شامل رہا، جن میں: عالمی کانفرنس برائے انسانی اخوت، عالمی سربراہی اجلاس برائے مذہبی رہنما و شخصیات اور موسمیاتی تبدیلی، بحرین میں منعقدہ اسلامی۔اسلامی مکالمہ کانفرنس، مشرق و مغرب کے درمیان عالمی مکالمہ اقدام، اس کے علاوہ امن، شہریت، تنوع، بقائے باہمی اور باہمی احترام جیسے موضوعات پر متعدد بین الاقوامی کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے گئے۔

کونسل کی فکری کاوشوں کے نتیجے میں متعدد اہم دستاویزات منظرعام پر آئیں، جن میں: عالمی امن اور مشترکہ بقائے باہمی کے لیے انسانی اخوت کی دستاویز، "ضمیر کی پکار” (ابوظہبی مشترکہ اعلامیہ برائے مذہبی رہنما اور موسمیاتی تبدیلی)، "کوڈ آف ٹوئنٹی” (انسانی اخوت کے لیے میڈیا اصول)، "اہلِ قبلہ کی پکار”، یہ دستاویزات مکالمے، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی اخوت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اقوام متحدہ، کیتھولک چرچ، بین الاقوامی تنظیموں، جامعات اور تحقیقی مراکز کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے: امن، مکالمہ اور پائیدار ترقی، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی اقدامات، مذہبی آزادی اور عقیدے کے احترام، جیسے موضوعات پر عالمی سطح پر فعال کردار ادا کیا ہے۔

کونسل نے: امت مسلمہ کے مسائل کی حمایت، عوام کے حقوق کے دفاع، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد، نفرت انگیز تقاریر اور مقدسات کی توہین کی مخالفت، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام، شہریوں کے تحفظ، مکالمے اور پرامن حل کے فروغ، میں مسلسل اپنا کردار ادا کیا ہے۔

کونسل نے انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان اور قازقستان میں اپنے دفاتر قائم کیے ہیں، جو اعتدال، رواداری اور بین الثقافتی تعاون کے فروغ کے مراکز کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

علمی و ثقافتی میدان میں "الحکماء پبلشنگ” کے ذریعے درجنوں فکری اور ثقافتی کتابیں شائع کی ہیں اور عالمی و عرب کتب میلوں میں بھرپور شرکت کی ہے، جس سے معتدل اسلامی فکر اور مکالمے کے فروغ میں مدد ملی ہے۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے متحدہ عرب امارات اور اس کی قیادت، خصوصاً صدر مملکت شیخ محمد بن زاید آل نہیان، کی مسلسل حمایت پر گہری قدردانی کا اظہار کیا۔ کونسل کے مطابق اس تعاون نے اس کے عالمی مشن، بین الاقوامی شراکت داریوں اور امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور متحدہ عرب امارات کو عالمی سطح پر مکالمے، رواداری اور انسانی اخوت کے مرکز کے طور پر نمایاں کیا ہے۔

کونسل کے اراکین اور انتظامیہ نے شیخ الازہر اور کونسل کے سربراہ فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بصیرت افروز قیادت نے کونسل کے عالمی مقام، فکری اثر و رسوخ اور امن، مکالمے اور انسانی اخوت کے فروغ میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنے پروگراموں اور اقدامات کو وسعت دے گی، بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنائے گی، اور حکمت، اعتدال، انسانی وقار، اخوت، مکالمے اور تعاون کے فروغ کے ذریعے ایک زیادہ محفوظ، پرامن، منصفانہ اور خوشحال دنیا کی تعمیر میں اپنا کردار جاری رکھے گی۔