Muslim Elders

شیخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز اور اقوامِ متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک ایسا اخلاقی فریم ورک ضروری ہے جو انسانی وقار کا تحفظ کرے۔

فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اقوامِ متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل محترمہ امینہ محمد اور ان کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر فضیلت مآب امامِ اکبر نے اس بات پر زور دیا کہ اخلاقی ضوابط کے بغیر مصنوعی ذہانت انسانی اقدار کے زوال کا باعث بن سکتی ہے، اور کوئی بھی سائنسی ترقی اس وقت تک انسانیت کے لیے نعمت نہیں بن سکتی جب تک وہ اخلاقی اصولوں سے جڑی نہ ہو۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی ترقی انسانی اور اخلاقی اقدار پر اس کے اثرات کے حوالے سے حقیقی خدشات کو جنم دے رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان آلات پر حد سے زیادہ انحصار سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے، بلکہ یہ بعض منفی رویوں کو فروغ دینے، اقدار سے انحراف کرنے اور دوسروں کی محنت چرانے کا ذریعہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مصنوعی ذہانت کو قابو میں رکھنے والا کوئی اخلاقی نظام موجود نہ ہوا تو دنیا ایسے مستقبل کی طرف جا سکتی ہے جہاں انسانی وقار کمزور پڑ جائے گا اور آسمانی تعلیمات سے حاصل ہونے والے اصول زائل ہو جائیں گے۔

فضیلت مآب امامِ اکبر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ انسانیت کا مستقبل کیا ہوگا اگر یہ ٹیکنالوجی چند محدود ہاتھوں میں چلی جائے، جو اقوام کے مقدر، ترقی کے رخ اور پوری انسانیت کے مستقبل کو کنٹرول کریں۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی ترقی بے حد اہم اور مفید ہے، لیکن اسے اخلاقیات کی قیمت پر حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا:
“آج دنیا کو یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کہاں تک ترقی کرے گی، بلکہ یہ پوچھنا چاہیے کہ اس ترقی کو کون قابو میں رکھے گا، یہ کن اقدار اور اخلاقیات پر مبنی ہوگی، اور ذمہ داری کس کی ہوگی؟ اگر اخلاق غائب ہو جائیں تو سائنسی ترقی خود انسان کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔”

فضیلت مآب امامِ اکبر نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل جناب انتونیو گوتیریش کی قیادت میں بین الاقوامی قانون، انصاف اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے میں اقوامِ متحدہ کے کردار کو سراہا، اور اس بات کی تصدیق کی کہ جامعہ ازہر اور مسلم کونسل آف ایلڈرز ہر اس بین الاقوامی کوشش میں شرکت کے لیے تیار ہیں جو مصنوعی ذہانت کو انسان کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کو یقینی بنائے، نہ کہ اس پر کنٹرول کے لیے۔

اپنی جانب سے، محترمہ امینہ محمد نے فضیلت مآب امامِ اکبر سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا اور عالمی سطح پر اخوت، بقائے باہمی اور امن کے فروغ میں ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پیغامِ خیر بھی پہنچایا اور بتایا کہ اقوامِ متحدہ نے حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے حوالے سے وسیع مشاورت کا آغاز کیا ہے، جس میں انسان اور اس کی عزت و وقار کو مرکزیت حاصل ہے، اور اخلاقی اقدار کو اس ٹیکنالوجی کے دل میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات آج باضابطہ طور پر ازہر سے شروع ہو رہے ہیں، اور بعد میں دنیا بھر کے مذہبی اور ثقافتی اداروں تک پھیلیں گے۔
انہوں نے فضیلت مآب امامِ اکبر کے اس وژن کو بھی سراہا جو ڈیجیٹل دنیا میں انسانی وقار کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتا ہے، اور بتایا کہ ٹیکنالوجی کو انسان کی خدمت کا ذریعہ رہنا چاہیے، نہ کہ اس پر کنٹرول کا ہتھیار بننا چاہیے۔ اس کے دانشمندانہ استعمال سے عوام کی فلاح، انصاف کے قیام اور ممالک کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔
انہوں نے 2019 میں ابوظہبی میں فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب اور سابق پوپ فرانسس کے درمیان دستخط ہونے والی "انسانی اخوت کی دستاویز” کو بھی سراہا اور اسے عالمی سطح پر ایک اہم اخلاقی حوالہ قرار دیا۔