Muslim Elders

مشیر محمد عبدالسلام کی سابق جرمن چانسلر اینجیلا مرکل سے ملاقات؛ امن کے فروغ اور انسانی اخوت کے استحکام پر تبادلۂ خیال

محمد عبدالسلام کی سابق جرمن چانسلر اینجیلا مرکل

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکریٹری جنرل سعادت مآب مشیر محمد عبدالسلام، نے جرمنی کے دارالحکومت برلن میں سابق جرمن چانسلر اینجیلا مرکل سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں یورپی کونسل کے سابق صدر شارل میشل بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران عالمی سطح پر درپیش اہم مسائل و چیلنجز، امن اور انسانی اخوت کے فروغ، اور تہذیبوں و ثقافتوں کے درمیان مکالمے کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر گفتگو ہوئی۔

اس موقع پر سابق جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے مکالمہ، رواداری اور امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان دوراندیش اور حکمتِ عملی رکھنے والے قائد ہیں، جنہوں نے متحدہ عرب امارات کو ترقی، استحکام اور انسانی خدمات کا ایک نمایاں نمونہ بنایا ہے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے حوالے سے مصر کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔
مزید برآں، اینجیلا مرکل نے فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب شیخ الازہر، چیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، کی شخصیت کو غیر معمولی اور باہمت قرار دیا، جو کشادگیِ فکر، ثقافتی تنوع کے احترام، اور اقوام کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مسلم کونسل آف ایلڈرز کی امن، بقائے باہمی اور نفرت کے خلاف کوششوں کو بھی سراہا، اور "اخوتِ انسانی کی دستاویز” کو عالمی سطح پر انسانی بقائے باہمی کی ایک مثالی دستاویز قرار دیا۔
سابق جرمن چانسلر نے سابق پوپ فرانسس کے امن کے فروغ اور اقوام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے کردار کو بھی سراہا، اور کیتھولک چرچ کے پوپ لیو چہاردہم کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر جاری کردہ پیغام کو بھی اہم قرار دیا، جس میں ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کی اخلاقی رہنمائی دی گئی ہے۔

دوسری جانب، مشیر محمد عبدالسلام نےفضیلت مآب امامِ اکبر شیخ الازہر کی جانب سے اینجیلا مرکل کو نیک تمناؤں اور گہرے احترام کا پیغام پہنچایا، اور انسانی ہمدردی پر مبنی ان کے اقدامات، خاص طور پر مہاجرین اور کمزور طبقات کی حمایت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اینجیلا مرکل کی قیادت دنیا بھر کے رہنماؤں کے لیے ایک مثال اور تحریک کا ذریعہ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ممالک اور ادارے مل کر مکالمے، رواداری اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیں، اور ایسے چیلنجز کا مقابلہ کریں جو عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ دنیا کو ایسے دانشمند اور ذمہ دار افراد کی ضرورت ہے جو واضح وژن اور جرأت مندانہ قیادت کے ذریعے امن اور اعتماد کو فروغ دیں۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیا اور تحائف کا تبادلہ کیا۔ مشیر محمد عبدالسلام نے اینجیلا مرکل کو اپنی کتاب "امام اور پوپ اور مشکل راستہ: دستاویزِ اخوتِ انسانی کی پیدائش کی گواہی” پیش کی، جبکہ اینجیلا مرکل نے انہیں اپنی سوانح عمری "آزادی: یادیں (1954–2021)” کا دستخط شدہ نسخہ تحفے میں دیا۔ دونوں فریقین نے انسانی اور فکری مسائل پر تعاون، مکالمہ اور خیالات کے تبادلے کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دنیا میں امن، ہم آہنگی اور بقائے باہمی کو فروغ دیا جا سکے۔