مسلم کونسل آف ایلڈرز، فضیلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف کی سربراہی میں، اس بات پر زور دیتی ہے کہ نفرت انگیز بیان، تعصب اور امتیازی رویے انسانی معاشروں کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں سے ہیں۔ کیونکہ یہ تقسیم، اختلاف اور تنازعات کو ہوا دیتے ہیں اور بقائے باہمی، رواداری اور باہمی احترام کی اقدار کو کمزور کرتے ہیں۔
کونسل کا کہنا ہے، عالمی یومِ انسدادِ نفرت انگیز بیان (جو ہر سال 18 جون کو منایا جاتا ہے) کے موقع پر جاری بیان میں، کہ دینِ اسلام اور تمام آسمانی مذاہب انسان کی عزت و کرامت کے تحفظ، تنوع کے احترام اور قوموں و ثقافتوں کے درمیان باہمی تعارف کی دعوت دیتے ہیں، جبکہ نفرت، نسل پرستی اور تنگ نظری کی تمام صورتوں کو مسترد کرتے ہیں۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے نفرت انگیز بیانیوں پر تشویش کا اظہار کیا، جہاں غلط معلومات، بدنامی اور اشتعال انگیزی کی مہمات جاری ہیں۔ کونسل نے اس امر پر زور دیا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں، تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں اخلاقی ذمہ داری کو فروغ دیا جا سکے اور ایسے قانونی، تعلیمی اور میڈیا فریم ورک تیار کیے جائیں جو اس رجحان کو کم کرنے اور معاشروں کو اس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکیں۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نفرت اور انتہاپسندی کے خلاف مؤثر اقدامات کر رہی ہے، جن میں نمایاں اقدامات ہیں: مشرق و مغرب کے درمیان مکالمہ، عالمی امن قافلے، امن ساز نوجوانوں کا فورم، طلبہ کے درمیان انسانی اخوت کے فروغ کے لیے مکالماتی پروگرام، اور "100 سوالات” منصوبہ۔ اس کے علاوہ، کونسل متعدد کانفرنسوں کا انعقاد اور مختلف اشاعتوں کے ذریعے انتہاپسند نظریات کا مقابلہ، غلط فہمیوں کی اصلاح، اور مکالمہ، تفہیم، رواداری اور امن کی ثقافت کو فروغ دیتی ہے۔
کونسل یہ بھی واضح کرتی ہے کہ "انسانی اخوت کی دستاویز”، جس پر 2019 میں ابوظہبی میں فضلت مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب اور سابق پوپ فرانسس نے دستخط کیے، نفرت، انتہاپسندی اور تعصب کے خلاف ایک اہم عالمی رہنما دستاویز ہے۔ یہ دستاویز شہریت، بقائے باہمی، انسانی یکجہتی اور دوسروں کے احترام کو فروغ دینے کی دعوت دیتی ہے، اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ مذاہب کو کبھی بھی جنگ، نفرت یا تعصب کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ یہ دستاویز اس بات کی بھی تاکید کرتی ہے کہ مذاہب کے غلط استعمال کو روکنا ضروری ہے، اور سب کو مل کر رواداری، امن اور باہمی احترام کی اقدار کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہیے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز: نفرت اور انتہاپسندی کا مقابلہ ایک مشترکہ دینی اور انسانی ذمہ داری ہے تاکہ ایک زیادہ پُرامن اور باہمی ہم آہنگی پر مبنی دنیا تعمیر کی جا سکے۔
