فضیلتِ مآب امامِ اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کے وزیرِ خارجہ، جناب علم الدین کوناکوویچ کا استقبال کیا، تاکہ باہمی تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کی جا سکے۔
فضیلتِ مآب امامِ اکبر نے گفتگو کے دوران کہا کہ ہم بوسنیا اور ہرزیگووینا کے مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے مظالم اور انسانیت سوز جرائم کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ دردناک دور اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے، اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا تکرار نہ ہونے دے، اور دنیا بھر کے مسلمان دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ امن اور استحکام کے ساتھ زندگی بسر کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن ہی اسلام کا پیغام ہے؛ لفظ "اسلام” اور "سلام” دونوں کا بنیادی مادہ ایک ہی ہے۔ فضیلتِ ماب امامِ اکبر نے "مصری خاندان ہاؤس” کے کامیاب تجربے کا بھی ذکر کیا، جسے الازہر نے مصری گرجا گھروں کے ساتھ مل کر فرقہ وارانہ فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس تجربے کے بہت مثبت نتائج نکلے، اور اس نے انتہاپسندانہ سوچ اور فتنے کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا، یہاں تک کہ اب ایسی آوازیں مصر میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
فضیلت مآب امامِ اکبر نے مزید کہا کہ الازہر بوسنیا اور ہرزیگووینا کے ائمہ کی تربیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور یہ تربیت الازہر کی عالمی اکیڈمی میں فراہم کی جا سکتی ہے، تاکہ وہ عصرِ حاضر کے مختلف فکری و سماجی مسائل سے بہتر طور پر نمٹ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی عربی زبان کی تعلیم کے لیے ایک مرکز کے قیام اور علماء و اساتذہ کو وہاں بھیجنے کی بھی پیشکش کی گئی، تاکہ بوسنیا و ہرزیگووینا کے مسلمان قرآنِ کریم کی زبان سیکھ سکیں اور اپنی علمی وراثت سے مضبوط تعلق قائم رکھ سکیں۔
اپنی جانب سے، بوسنیا اور ہرزیگووینا کے وزیرِ خارجہ نے شیخ الازہر سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا ملک فضیلت مآب امامِ اکبر کی عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی اخوت کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی قدردانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: "ہمارے ملک کے بہت سے افراد الازہر سے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ بوسنیائی معاشرے میں بلند مقام رکھتے ہیں، ان میں سے کئی آج اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز ہیں، اور اپنی کمیونٹیز کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔”
وزیرِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج کے دور میں نوجوانوں کی صحیح اسلامی تعلیم و تربیت نہایت اہم چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا: "ہمارے نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلام کو مستند اور معتبر ذرائع سے سیکھیں، جیسے الازہر الشریف۔ ہمیں انہیں فکری طور پر محفوظ رکھنا ہے، تاکہ وہ ان گروہوں کا شکار نہ ہوں جو نفرت اور شدت پسندی پھیلاتے ہیں۔ ہمارا ملک مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ الازہر کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں۔”
