عراق انٹرنیشنل بک فئیر کے خواتین کے اعزاز میں منعقدہ پروگرام کے ساتھ ہم آہنگی میں، جہاں اس سال کا عنوان "100 نون عراقیہ” رکھا گیا ہے،مسلم کونسل آف ایلڈرز کے پویلین پر ایک علمی نشست بعنوان: "اسلامی-اسلامی مکالمے کے منصوبے میں عورت: کا کردار اور خدمات” منعقد کی گئی۔ اس نشست میں ڈاکٹر امیرہ ابراہیم حسین السامرائی، عراقی فقہ کونسل میں خواتین کے شعبے کی سربراہ، اور محترمہ نسیبہ صباح الداہری، جو جامع امام اعظم ابو حنیفہ النعمان میں رہنما، نے شرکت کی، جبکہ نشست کی نظامت جامعہ الازہر کے شعبۂ احیائے تراث کے اسکالر ڈاکٹر محمد جمال، نے انجام دیے۔
ڈاکٹر محمد جمال نے گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا کہ اسلام نے اپنی ابتدا ہی سے عورت کو مقام اور ذمہ داری عطا کی، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ یہ حقیقت آشکار کرتی ہے کہ عورت کو کبھی بھی عمل اور شرکت کے میدان سے خارج نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر امیرہ السامرائی نے اپنے خطاب میں اس مقام پر روشنی ڈالی جو اسلام نے عورت کو دیا، اور کہا کہ قرآن کریم نے عورت کے کردار کو اجاگر کیا اور اس کی حیثیت کو بلند کیا، اسے ماں، بہن، بیوی، بیٹی اور نسلوں کی معمار قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تاریخ میں بے شمار خواتین کے نام محفوظ ہیں جنہوں نے علم اور دعوت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا اور تاریخ و تہذیب کی تشکیل میں حصہ لیا۔
محترمہ نسیبہ الداہری نے سماجی تاریخ کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا، جس نے اس کردار کو سمجھنے میں مدد دی جو عورت اسلامی معاشرتی ڈھانچے میں ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماں شعور کی تشکیل کی پہلی کڑی ہے، اور یہی اس کے کردار کو اسلامی-اسلامی مکالمے میں فیصلہ کن بناتا ہے، کیونکہ وہ انسان کے شعور میں پہلا ثقافتی اور اخلاقی وسیلہ تیار کرتی ہے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز، عراق انٹرنیشنل بک فیئر میں اپنے خصوصی پویلین کے ساتھ شریک ہے، اپنے اس پیغام کے تحت جو امن کے فروغ، مکالمے اور رواداری کی اقدار کو مضبوط کرنے اور انسانوں کے درمیان تعاون کے پل قائم کرنے پر مرکوز ہے، خواہ ان کے اجناس اور عقائد مختلف کیوں نہ ہوں۔ کونسل کا پویلین، بغداد انٹرنیشنل فئیر گراؤنڈ – پویلین نمبر 16 – H6 میں واقع ہے۔
