نئی دہلی بین الاقوامی کتاب میلے میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کے پویلین نے "امن کو فروغ دینے اور نوجوانوں میں انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے میں سوشل میڈیا کا کردار” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا ، جہاں سیمینار میں دانشوروں ، طلباء اور میڈیا کے پیشہ ور افراد نے شرکت کی،جہاں عصرحاضر کی گفتگو کو تشکیل دینے میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار اور انتہا پسند بیانیوں کا مقابلہ کرنے اور عالمی امن کو فروغ دینے کے لئے اس کے استعمال کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سيمنيار کی نظامت پروفیسر ڈاکٹر ذاکر الرحمن نے کی، جو ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں عرب انڈین کلچرل سنٹر کے بانی ڈائریکٹر ہیں۔ اس سيمينار میں موکیش کاوشک، ہندوستانی اخبار "دینک بھاسکر” کے نائب ایڈیٹر، اور پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ حمید، جو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ویسٹ ایشیا اسٹڈیز سنٹر کی سربراہ نے شرکت کی۔
سيمينار کے شرکاء نے انتہا پسندانہ بیانات کا مقابلہ کرنے کے لیے ذمہ دارانہ آن لائن تعامل اور عوامی پالیسیوں کے اقدامات کا جامع تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز امن کی ثقافت کو فروغ دینے اور ثقافتی مکالمے کو بڑھانے کے مؤثر ذرائع ہیں، جو مسلم کونسل آف ایلڈرز کے پیغامِ رواداری، تفہیم اور عالمی اتحاد کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
ڈنک بھاسکر کے ڈپٹی ایڈیٹر ان چیف مکیش کاوشیک نے غلط معلومات، ڈیجیٹل ہیرا پھیری اور رائے عامہ پر سوشل میڈیا کے اثرات سے متعلق چیلنجوں پر بات کرتے ہوئے سماجی بیانیوں کی تشکیل میں سوشل میڈیا کی طاقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈیجیٹل انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے ذمہ دارانہ آن لائن تعامل کی اہمیت کی وضاحت کی۔
اپنی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ حمید نے "امن کی ٹیکنالوجی کا نظام” کی تعمیر میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر روشنی ڈالی، جہاں مختلف معاشرے مشترکہ اقدار اور عالمی چیلنجوں کے بارے میں بات چیت کر سکتے ہیں، انہوں نے انتہا پسند نظریات کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیم، معاشرتی سرگرمیوں اور ثقافتی تعاون کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال میں نوجوانوں کے مثبت کردار کی طرف اشارہ کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر ذکر الرحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ تمام مذاہب امن اور بقائے باہمی کی دعوت دینے والی اقدار میں مشترک ہیں، انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مذہب یا نظریے سے متعلق ہر قسم کے تشدد کو مسترد کرنے اور مشترکہ تفہیم کو فروغ دینے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس میدان میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کی کوششوں، خاص طور پر انسانی بھائی چارے کی تاریخی دستاویز کی تعریف کی، جو عالمی امن کے حصول اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی بنیاد کی نمائندگی کرتی ہے۔
نئی دہلی بین الاقوامی کتاب میلے 2025 میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کی مسلسل تیسری بار شرکت فکری اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے اور رواداری، امن اور بقائے باہمی کی اقدار کو مستحکم کرنے کے اس کے عزم کی تصدیق کرتی ہے۔ اپنی مختلف اشاعتوں، ترجمہ شدہ کاموں اور ثقافتی سیمیناروں کے ذریعے کونسل ثقافتوں کے درمیان مواصلات کے پل تعمیر کرنے اور عالمی سطح پر مشترکہ انسانی اقدار کی اہمیت پر زور دینے میں اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز پویلین آئی-04 نئی دہلی کے پرگھاٹی اسکوائر کے قریب بھارت منڈپم کنونشن سینٹر کے ہال 4 میں واقع ہے۔
