Muslim Elders

شارجہ بین الاقوامی کتاب میلے میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کے پویلین میں اسلامی-اسلامی مکالمے کے لیے چیلنجز اور امکانات پر ایک سمپوزیم…

محترم ڈاکٹر احمد عبدالعزیز الحداد: مسلمانوں کو متحد کرنے اور ان کے درمیان افہام و تفہیم کو بڑھانے میں اسلامی-اسلامی مکالمے کا ایک اہم کردار ہے۔

ڈاکٹر رضوان السید: اسلامی-اسلامی مکالمے کے لیے بحرین کانفرنس امّت اسلامیہ کے تمام اجزا کے درمیان افہام و تفہیم اور خود مسلمانوں کے درمیان اور دنیا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے ایک نیا وژن شروع کرنے کا بہترین موقع ہے۔

43ویں شارجہ بین الاقوامی کتاب میلے میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کے پویلین نے ایک ثقافتی سمپوزیم کا انعقاد کیا جس کا عنوان تھا: "اسلامی-اسلامی مکالمہ… امّت کے اتحاد کے حصول کے لیے چیلنجز اور امکانات”۔ جس میں محترم ڈاکٹر احمد عبدالعزیز الحداد، رکن مسلم کونسل آف ایلڈرز، دبئی میں شعبہ فتویٰ کے چیف مفتی، اور امارات کونسل برائے شرعی فتویٰ کے رکن نے اور محمد بن زاید یونیورسٹی فار ہیومن سائنسز میں کالج آف گریجویٹ اسٹڈیز اینڈ سائنٹیفک ریسرچ کے ڈین رضوان السید، نے شرکت کی۔ اور اس سمپوزیم کی نظامت خلیفہ خالد، امن ساز نوجوان فورم میں سے ایک نے کی۔ سمپوزیم نے طبقاتی اتحاد کو مضبوط کرنے، امت کو متحد کرنے اور فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل اف ایلڈرز، کی نومبر 2022 میں بحرین ڈائیلاگ فورم کے دوران، اسلامی امور اور مسلم اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے، اس بات پر زور دیا کہ مذہبی بھائی چارہ انسانی بھائی چارے کا محرک ہے، اور یہ کہ عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اس کے استحکام اور طاقت کے حصول کا بہترین طریقہ امّت کو متحد کرنا ہے۔

سمپوزیم کے آغاز میں محترم ڈاکٹر احمد عبدالعزیز الحداد نے اسلامی-اسلامی مکالمے کی اہمیت اور مسلمانوں کی صفوں کو متحد کرنے، ان کے درمیان افہام و تفہیم کو بڑھانے اور مشترکات پر اتفاق رائے تک پہنچنے میں اس کے کردار پر زور دیا۔ جیسے الله تعالیٰ پر یقین اور مذہبی رسومات ادا کرنا، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ بات چیت کا مقصد پرامن بقائے باہمی کو حاصل کرنا ہے۔ اس کا استعمال اصولوں کو درست کرنے یا ثانوی معاملات میں تفہیم تک پہنچنے کے لیے کیا جاتا ہے، تعمیری بحث کے طریقہ کار کی بنیاد پر۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مکالمے کا مطلب جائزہ اور ردعمل ہے، اور یہ اسلام میں ہم آہنگی حاصل کرنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کا ایک لازمی ذریعہ ہے، قرآن و سنت کے متعدد مقامات کا حوالہ دیتے ہوئے۔

محترم ڈاکٹر احمد عبدالعزیز الحداد نے اسلامی-اسلامی مکالمے کو متحرک کرنے میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کی کوششوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ اہم اقدامات ملت اسلامیہ کی صفوں کو متحد کرنے اور آپس میں افہام و تفہیم کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اور آئندہ سال فروری میں بحرین میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کے زیر انتظام ہونے والی اسلامی-اسلامی مکالمہ کانفرنس کے اپنی تعریف کا اظہار کیا، انہوں نے اسے ایک سٹریٹجک قدم قرار دیا جس کا مقصد دنیا کے سامنے ملت اسلامیہ کی آواز کو یکجا کرنا ہے، جو مسلمانوں میں ہم آہنگی اور امن پھیلانے کے کونسل کے وژن کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امّت اسلامیہ مشترکہ اقدار کے گرد تعمیری مکالمے اور متحرک ہونے کے ذریعے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور اپنے اوپر لگنے والے جھوٹے الزامات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اپنی جانب سے ڈاکٹر رضوان السید نے کہاکہ اسلامی تعلقات میں جدید بحران صرف قدیم تنازعات کی توسیع نہیں ہے، بلکہ یہ متعدد سیاق و سباق اور چیلنجوں سے جڑا ہوا ہے۔
اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ گزشتہ ادوار میں اسلامی اسلامی مکالمہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز رہا۔ دنیا نے بیسویں صدی کے وسط کے دوران اہم اقدامات کا مشاہدہ کیا، جب مختلف فرقوں کے علماء اور مفکرین جدیدیت اور عالمی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے سے متعلق مسائل پر بات کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے، جن میں فقہی مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی جن کے ساتھ گہرے اختلافات پیدا کیے بغیر ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ان مکالموں کا مقصد نقطہ نظر کو قریب لانا اور امّت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ تعاون پر کام کرنا تھا۔

محمد بن زاید یونیورسٹی فار ہیومن سائنسز کے کالج آف گریجویٹ اسٹڈیز اینڈ سائنٹیفک ریسرچ کے ڈین نے فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل اف ایلڈرز کی طرف سے قوم کے اتحاد کے لئے دی گئی دعوت کی تعریف کی۔ اور
سال 2025 کے آغاز میں مملکت بحرین میں اسلامی اسلامی مکالمہ کانفرنس کے انعقاد کے ساتھ اس دعوت کو عملی شکل دینے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا، جس میں مختلف فرقوں، نظریات اور مذہبی اور ثقافتی رجحانات کے حامل مسلمانوں کو لفظ "لا الہ الا الله” کے تحت اکٹھا کیا گیا ہے۔ یہ ایک بہترین موقع ہو گا کہ امّت اسلامیہ کے تمام اجزاء کے درمیان افہام و تفہیم کے لیے ایک نیا وژن شروع کیا جائے، مسلمانوں کے اپنے اور دنیا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا جائے اور ایک قوم کے طور پر اکٹھے ہو کر عالمی مسائل پر اپنے مشترکہ موقف کا اعلان کیا جائے۔

43ویں شارجہ بین الاقوامی کتاب میلے میں مسلم کونسل آف ایلڈرز نے خصوصی پویلین کے ساتھ شرکت کر رہی ہے جو اس کے پیغام مبنی ہے پر جس کا مقصد امن کو فروغ دینا، مکالمے اور رواداری کی اقدار کو مستحکم کرنا اور مختلف نسلوں اور عقائد کے انسانوں کے درمیان تعاون کے پُل تعمیر کرنا ہے۔ اور نمائش میں آنے والوں کے لیے ثقافتی اور فکری پروگراموں اور تقریبات کے علاوہ مختلف اہم فکری اور ثقافتی مسائل پر 220 سے زیادہ اشاعتیں پیش کررہا ہے، کونسل آف مسلم ایلڈرز کا پویلین، ہال نمبر 6، پویلین نمبر M8 میں واقع ہے۔