انسانی بھائی چارے کے عالمی دن کے موقع پر… مسلم کونسل اف ایلڈرز کی پاکستان برانچ نے "انسانی بھائی چارہ: دنیا میں امید اور امن کے پیغامات” کے عنوان سے ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا. انسانی بھائی چارے کا عالمی دن جو ہر سال 4 فروری کو آتا ہے، دنیا اس دن امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب شیخ الازہر الشریف ،چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز اور کیتھولک چرچ کے پوپ تقدس مآب پوپ فرانسس کے درمیان 2019 میں اماراتی دارالحکومت ابوظہبی میں انسانی بھائی چارے سے متعلق دستاویز پر دستخط کا جشن مناتی ہے. سمپوزیم میں انسانی بھائی چارے کی اقدار اور اصولوں کو فروغ دینے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ پرامن بقائے باہمی، دوسروں کی قبولیت اور تکثیریت کو مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حاصل کیا جا سکے، اس کے ساتھ ساتھ نہ صرف پاکستانی تناظر میں بلکہ پوری دنیا میں امن اور امید کو فروغ دینے میں رواداری پر مبنی مذہبی تعلیمات کے اہم کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سمپوزیم، "انسانی برادری: دنیا میں امید اور امن کے پیغامات،” میں پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ممتاز شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ جن میں پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق ڈائریکٹر جنرل اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ وأستاذ الشریعہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، ڈاکٹر سردار طاہر تبسم بانی صدر انسٹی ٹیوٹ فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ وچیئرمین انٹرنیشنل ہارمونی کونسل، بشپ سیموئل رابرٹ عزائرہ ڈائریکٹر سنٹر فار کرسچن سٹڈیز راولپنڈی، جناب سردار رنجیت سنگھ سابق ممبر صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا، پروفیسر ڈاکٹر ثناء اللہ الازہری ایسوسی ایٹ پروفیسر اسلامک سٹڈیز بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد؛ اور علامہ لیاقت علی ڈائریکٹر فقہ جعفری اسکول اٹک شامل تھے.
شرکاء نے امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب شیخ الازہر الشریف کی سربراہی میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کی کاوشوں کو سراہا۔اورخاص طور پر کونسل کی شاخوں کے ذریعے جو دنیا کے متعدد ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں ۔جو رابطے اور مسلم و غیر مسلم کمیونٹیز میں امن کو فروغ دینے کے مقصد سے کونسل کے پیغام کو پھیلانےاور مکالمے، رواداری، بقائے باہمی اور انسانی بھائی چارے کی اقدار کے فروغ کے لیے موثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہیں ۔
پروفیسر ڈاکٹرمحمد ضیاء الحق ڈائریکٹر جنرل اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ وأستاذ الشریعہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے انسانی برادری سے متعلق دستاویز کے اہم کردار کو امن کے عالمی پیغام اورمذاہب کے درمیان بقائے باہمی اور رواداری کے جذبے کے طور پر اجاگر کیا۔ . جس میں شیخ الازہر اور کیتھولک چرچ کے پوپ بات چیت، پرامن بقائے باہمی اور دوسروں کی قبولیت کو فروغ دینے کے لیے اپنے سنجیدہ عزم کا اعادہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔
اپنی طرف سے، ڈاکٹر سردار طاہر تبسم نے مذہبی تنازعات کا مقابلہ کرنے اور انسانی بھائی چارے کی اقدار اور اصولوں کو فروغ دینے کے لیے مذاہب کے درمیان تعمیری مکالمے کو فعال کرنے کی فوری ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تعاون اور باہمی افہام و تفہیم کے دائرہ کار کو وسعت دینے سےبڑے انسانی مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بشپ سیموئل رابرٹ عزائرہ نے انسانی بھائی چارے اور امن کے لیے کام کرنے کی اہمیت کی وضاحت کی، اور انسانی بھائی چارے کی دستاویز کے اس کردار پر زور دیا جو وہ مذاہب کے درمیان بقائے باہمی اور مفاہمت کی اقدار کو فروغ دینے میں ادا کر سکتی ہے۔
اسی تناظر میں، جناب سردار رنجیت سنگھ صوبائی اسمبلی کے سابق رکن نے انسانی برادری سے متعلق دستاویز پر دستخط پر فخر کا اظہار کیا، کیونکہ یہ مذاہب کے درمیان مشترک بنیادی اصولوں کا اظہار کرتی ہے، جن میں احسان ، تعاون اور خیر بانٹنے جیسی اقدار شامل ہیں۔ جو سکھ مذہب اور دنیا بھر کے دیگر مذاہب کی تعلیمات کی بنیاد ہیں۔
جبکہ ڈاکٹر ثناء اللہ الازہری اور علامہ لیاقت علی نے رابطے اور بات چیت کے اس اہم کردار پر روشنی ڈالی جو وہ نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور اسے مسترد کرنے اور مذہبی اور نسلی تنوع کے احترام کو فروغ دینے میں ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے امن اور پُرامن بقائے باہمی کی حمایت کرنے اور لوگوں اور اقوام کے درمیان قطع نظر ان کے ثقافتی، مذہبی اور نسلی پس منظر کے ان اقدار کو فروغ دینے کے لیے انسانی بھائی چارہ سے متعلق دستاویز کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
