Muslim Elders

امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف ، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، كا عالمی اور روایتی مذاہب کے رہنماؤں کی ساتویں کانفرنس سے خطاب

امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف ، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، نے بدھ کے روز عالمی اور روایتی مذاہب کے رہنماؤں کی ساتویں کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں قازقستان کے صدر اوردنیا بھر کے مذہبی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی میں خطاب كيا اور اس کانفرس کا عنوان ہے "بعد از کرونا وائرس وبا کے دورمیں انسانیت کى روحانی اور سماجی ترقی میں مذہبی رہنماؤں کا کردار”۔

اپنے خطاب کے آغاز میں، امام الاکبر نے جمہوریہ قازقستان کے صدر کا مذہبی رہنماؤں کی ساتویں کانفرنس کی سرپرستی پر شکریہ ادا کیا۔ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ کانفرنس انسانی بھائی چارے اور بقائے باہمی اور امن کی راہ میں ایک نیا اور اہم اضافہ ہو جس کا فقدان آج دنیا میں پایا جاتا ہے، جس طرح مریض ایک نایاب علاج کا منتظرہو جو اس کی تکلیف اور درد کو ختم کردے۔

امام الاکبر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ دنیا ابھی کرونا وبا کے اثرات سے نکلنا شروع نہیں ہوئی تھی، جس نے تقریباً پندرہ ملین افراد کی جانیں لی ہیں۔ اور دنیا اس ڈراؤنے خواب سے ابھی بیدار نہیں ہوئی تھی۔ کہ دوسری قدرتی، سیاسی اور "معاشی” آفات نے اس کا گھیراؤ کر لیا جو انسانوں کی خود کی بنائی ہوئی آفات ہیں جیسا کہ ضرورت سے زیادہ خود غرضی اور حد سے زیادہ لالچ اور مردہ ضمیر۔ کاش ان آفات کے تباہ کن اثرات صرف بدعنوانوں پر پرتے، جو ان کے اعمال کا کا بدلہ ہوتا! تو یہ بہت آسان ہوتا.. لیکن اس کے اثرات ہمارے سیارے کے تمام انسانوں، جانوروں اور پودوں پر اثر انداز ہوئے۔

امام الاکبر نے اس بات کی نشاندہی بھی كي کہ فطرت اور آب و ہوا کے مظاہر میں اچانک تبدیلی کی وجہ سے انسانیت اب دہشت اور خوف کا شکار ہے۔ جیسا کی درجہ حرارت میں اضافہ، جنگلوں میں آگ لگ جانا، اور سمندروں میں پانی کی بڑھتی ہوئی سطح، شہروں کو ڈوبنے کے خدشات اور موسلا دھار بارشیں، کچھ ندیوں کا خشک ہو جانا اور بہت سے جانوروں کی موت کا خطرہ، اور دیگر متکبرانہ سیاسی طرز عمل جنہوں نے حالیہ دنوں میں بین الاقوامی معیشت کے ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جن میں شدید بحران بھی شامل ہیں جو کسی کے وھم وگمان من بھی نہیں تھا، اور ان سب سے امیر اور غریب ممالک دونوں ہی متاثر ہوئے ہیں، اور ان شدید بحرانوں نے روٹی کے لقمے اور پانی کو متاثر کیا ساتھ ہی محفوظ افراد کو دھمکانے، انہیں مارنے، انہیں بے گھر کرنے اور ان کو آبائی علاقوں سے نکلنے پر مجبورکیا-

امام الاکبر نے اس بات پر زور دیا کہ ہم ایک ایسی زندہ حقیقت میں جی رہے ہیں جس میں صرف وہی لوگ بحث کر سکتے ہیں جو دولت مند اور غافل ہوتے ہیں۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ آفات اسی انسانی تہذیب اورانسان کی تخلیق کردہ ہیں، اور یہ سب انسانوں کی طرف سے جان بوجھ کر، تکبر اور دوسروں کا احساس نہ کرنے کی وجہ سے ہیں۔

امام الطیب نے وضاحت کی کہ انسان ان جرائم کے ارتکاب کی جرات کبھی نہیں کرتا اگر اس نے مقدس چیزوں کے خلاف ایسا ارتکاب جرم نہ کیا ہوتا جو پوری تاریخ میں کسی بھی قوم نے اپنی تہذیبی راہ میں ارتکاب کی جرأت نہیں کی۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ "مذہب” اور اس کے قوانین اور اخلاقی تعلیمات جو تہذیبوں کے بننے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں- ہماری اس عصری تہذیب نے ان مقدسات کا سب سے پہلے انکار کیا اور ان کا مذاق اڑایا، اور پھر جلد ہی اسے اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا۔ اوراس کی جگہ کفر اور الحاد پر مبنی ایک اور مذہب اختیار کر لیا۔

شیخ الازہر نے خبردار کیا کہ یہ دو مصیبتیں – مذہبی گستاخی اور الحاد – یہ دونوں ہی برائیاں ہیں، اور انکو انفرادی آزادی، خود غرضی، سرکشی، جنسی آزادی، اور ذہنی اور فکری آزادی سے جوڑنے جیسے عقائد پراکساتی ہے اور بازاری ثقافت، پیداوار کی کثرت، اور کھپت اور لالچ پر اکساتی ہیں۔ اوران سب کے پیچھے سوچی سمجھی فنڈنگ سے چلنے والی مہم جو دن رات نوجوانوں کے ذہنوں میں اس بات کو ڈال رہی ہے کہ وہ "خاندان” اور "شادی” سے دور ہوں۔ اوران کو ایسے دیکھیں جیسے انسانیت جانتی ہے جب سے الله تعالیٰ نے زمین پر -اس وقت تک کے لوگوں کو- اور اس پر موجود تمام چیزوں کو بنایا ہے- یہ ایک عظیم فریب ہے جو نئی نسلوں کی ثقافت کے لائق نہیں ہے۔ اور نوجوان خود کو اس سوچ کی زنجیروں سے آزاد کریں جس نے مذہب اور انسانی رسم و رواج کو قید کر رکھا ہے۔ اور عورت کو اپنی جیسی عورت سے شادی کرنے یا ایک سے زیادہ شوہر رکھنے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے اور مرد کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے اور اس طرح کی دعوت دینے والوں نے اپنے نئے متبادل کو اس درجے تک لے جانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی جن سے جانور اور درندے بھی پرہیز کرتے ہیں، اور وہ لوگ بھی جوصحیح فطرت اور عقل رکھتے ہیں۔

امام الاکبر نے متنبہ کیا کہ سائنسی اور فلسفیانہ ترقی، اور تکنیکی اور سماجی ترقی، جو آج کی تہذیب کا عنوان ہے،

وہ اب اخلاقی اور انسانی گراوٹ کو روکنے میں اہل نہیں رہا۔ اس بات کی طرف نشاندہی کی کہ "روشن خیال” فلسفی اپنی شرط ہار گئے جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ سائنسی اور تکنیکی ترقی عالمی امن شہریت اور تہذیب کے شانہ بشانہ چلے گی۔

امام الاکبر نے قازقستان میں مذہبی رہنماؤں کی ساتویں کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران وضاحت کی کہ ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مغربی تہذیب نے پچھلی دو صدیوں میں انسانیت کے لیے سائنس، صنعت، طب کے شعبوں میں، اور تعلیم، فن اور ثقافت، نقل و حمل اور مواصلاتی انقلاب، خلائی علوم، وغیرہ میں بڑی پیش رفت کی ہے، اور زبردست عملی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ تاہم، اس تہذیب میں روحانی پہلو کا غائب ہونا، اور عصر حاضر کے انسان کی راہ سے اخلاقی پہلو کا غائب ہونا، اور آسمانی پیغامات کا جان بوجھ کرمذاق اڑانا اور گستاخی کرنا، جیسے معاملات نے اس تہذیب کو خالی کر دیا ہے اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں جس کو یاد رکھا جا سکے۔

شیخ الازہر نے اس بات پر زور دیا کہ اس تہذیبی زوال کا مقابلہ کرنے کے لیے علمائے کرام کا اہم کردار ہے۔جیسا کہ آسمانی پیغامات کوفروغ دینا، اور ان پیغامات کی روشنی میں اخلاقیات اور فضائل کو فروغ دینا، اور لوگوں کی اصلاح کرنا، اوراس مردہ جن میں روح ڈالنا، اس راستے میں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا ہو گا جن کو کم نہیں سمجھا جا سکتا جو اس کردار کو صحیح طریقے سے انجام دینےمیں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ جس میں سب سے پہلے خود مذہبی اسکالرز کے درمیان "کھلے پن” یا حقیقی باہمی مکالمے کی عدم موجودگی ہے، اور لوگوں سے اس چیز کا مطالبہ کرنے سے پہلے ان کے درمیان دیرپا "امن” قائم کرنا ہے۔ جیسا کہ ایک کہاوت ہے کہ جس کے پاس خود کوئی چیز نہیں وہ دوسرے کو کیسے کوئی چیز دے سکتا ہے۔

امام الاکبر نے اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کے درمیان امن مذاہب کے درمیان امن کی ایک شاخ ہے، اور یہ کہ "مذہبی بھائی چارہ” "عالمی انسانی بھائی چارے” کا سبب ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صحیح آغاز علماء اور اہل مذاہب کے درمیان اس بھائی چارے کو قائم کرنا ہے۔ کیوںکہ مذہبی اسکالرز ہی وہ لوگ ہیں جو اخلاقی اور سماجی برائیوں اور بیماریوں کی تشخیص کرنے میں سب سے زیادہ قابل لوگ ہیں اور مذاہب ان کا علاج کیسے کر سکتے ہیں، اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ اب آنے والا خطرہ مذاہب كے اختلاف سے نہیں ہے، جتنا کہ "الحاد” سے ہے۔ اورایسے فلسفے جو اس سے پیدا ہوتے ہیں جو "مادیت” کو مقدس سمجھتا ہے اور مذاہب کو حقیر سمجھتا ہے اور انہیں مذاق اور کھیل سمجھتا ہے

۔

امام الاکبر نے اشارہ کیا کہ جب وہ علماء اور مذاہب کے رہنماؤں کے درمیان سلامتی امن، اور انسانی بھائی چارے کو ترجیح کی دعوت دیتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ سب مذاہب کو ایک مذہب میں ضم کر دیا جائے۔ اور سب مذاہب کو ایک مذہب میں ضم کرنا یہ ایک ایسا خیال ہے جو مذاہب کو تباہ کر دیتا ہے، انہیں جڑوں سے اکھاڑ پھینکتا ہے، اور یہ ایک ایسا مضحکہ خیز تصور ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، جس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی، جیسا کہ الله تعالیٰ نے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور طریقہ اپنانے کا حکم دیا ہے!!

میرا مطلب یہ ہے کہ مذاہب کے درمیان انسانی مشترکات کو بڑھانے اور لوگوں کے درمیان آشنائی اور باہمی احترام کی اقدار کو زندہ کرنے کے لیے سنجیدہ کام کی دعوت ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی مشترکات کو بڑھانے کے لیے سنجیدہ کام کرنے کى ضرورت ہے۔ تاکہ مذاہب اور لوگوں کے درمیان آشنائی اور باہمی احترام کی اقدار کو فروغ دیا جائے۔

شیخ الازہر نے مذہبی شخصیات کے ساتھ خصوصی ملاقات کا مطالبہ کیا جس کا مقصد مکمل بے تکلفی اور وضاحت کے ساتھ بات چیت کرنا ہے: کہ مذہبی شخصیات کی اور دیگر رہنماؤں، سیاست دانوں اور سینئر ماہرین اقتصادیات کی اخلاقی اور قدرتی آفات کے حوالے سے جن سے مجموعی طور پر انسانیت کے مستقبل کو خطرہ ہے کیا فرائض اور ذمہ داریاں ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ مغرب اور مشرق کے مختلف مذاہب کے رہنماؤں کے درمیان اس ملاقات کا انعقاد مشکل یا ناممکن نہیں ہے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ انسانی برادری کی دستاویز کا تجربہ ہمیں ایسا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

امام الطیب نے اشارہ کیا کہ انسانی بھائی چارے کی دستاویز کو مکمل کرنے میں الله تعالی کی توفیق سے کامیابی حاصل ہوئی، جو ہمارے جدید دور میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان پہلا انسانی ہمدردی کا معاہدہ تھا-

اس نظریہ کی تصدیق کرتے ہوئے جس پر الازہر نے ہمیشہ یقین رکھا ہے اور ہر جگہ اس کی دعوت دی ہے، جوکہ یہ ہے: مذاہب کی رہنماؤں کے درمیان ہر سنجیدہ اور ذمہ دارانہ ملاقات بے شک انسانی تہذیب کے لیے ایک لائف لائن میں بدل جاتی ہے جب برائی کے طوفان اس کی بنیادوں کو ہلانے یا اسے جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مذہبی رہنماؤں کی ساتویں کانفرنس کی سرگرمیوں کا آغاز بروز بدھ قازقستان کے دارالحکومت نور سلطان میں امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف ، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف، کیتھولک چرچ کے پوپ فرانسس، اور دنیا بھر کے متعدد مذہبی رہنماؤں کی شرکت سے ہوا