Muslim Elders

مشیر محمد عبدالسلام: انسانی اخوت کی دستاویز ابوظہبی سے شروع ہونے والا ایک عالمی تہذیبی و انسانی منصوبہ ہے

human-franternity-documents-muslim-elders-pakistan

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکریٹری جنرل، مشیر محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ انسانی اخوت کی دستاویز، جو 4 فروری 2019 کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی سے جاری ہوئی، ایک عالمی تہذیبی اور انسانی منصوبے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد انسانی وقار کا تحفظ، مکالمے اور بقائے باہمی کی ثقافت کو فروغ دینا، اور دنیا بھر میں امن، اخوت اور باہمی احترام کی اقدار کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ بات انہوں نے کونسل شما محمد برائے فکر و معرفت کے زیرِ اہتمام منعقدہ ثقافتی نشست "ابوظہبی سے دنیا تک انسانی اخوت کا سفر: ایک مشترکہ انسانی مستقبل کی جانب” کے دوران کہی۔ یہ تقریب شیخہ ڈاکٹر شما بنت محمد بن خالد آل نہیان کی سرپرستی میں منعقد ہوئی، جس میں دانشوروں، محققین اور انسانی امور میں دلچسپی رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

اس نشست کے دوران، جس کی نظامت میڈیا شخصیت ہند خلیفات نے کی، محمد عبدالسلام نے انسانی اخوت کی دستاویز کی تیاری کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دستاویز کئی برسوں پر محیط مشاورت اور مکالمے کا نتیجہ تھی، جس میں فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر چیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، اور سابق پوپ فرانسس سمیت متعدد مذہبی اور فکری رہنماؤں نے حصہ لیا۔ بالآخر تاریخی دستاویز پر ابوظہبی میں دستخط کیے گئے، جو آج عالمی سطح پر بقائے باہمی، اخوت اور امن کے فروغ کے لیے ایک اہم حوالہ بن چکی ہے۔

محمد عبدالسلام نے اپنی گفتگو میں کتاب امام، پوپ اور خاردار راہ گزر) کا بھی ذکر کیا، جو اس انسانی مکالمے کی مکمل داستان بیان کرتی ہے جس نے انسانی اخوت کی دستاویز کی شکل اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان مکالمے اور تعاون کا ایک مثالی عالمی نمونہ ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی اخوت کی دستاویز کی غیر معمولی کامیابی متحدہ عرب امارات کی قیادت، بالخصوص شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے وژن کا نتیجہ ہے، جو رواداری، مکالمے اور تنوع کے احترام کو انسانی ترقی اور عالمی استحکام کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اماراتی قیادت نے اس عظیم انسانی منصوبے کو بھرپور سرپرستی فراہم کی، جس کے نتیجے میں یہ پیغام ابوظہبی سے پوری دنیا تک پہنچا اور ملک عالمی سطح پر رواداری، بقائے باہمی اور امن کے فروغ کے مرکز کے طور پر نمایاں ہوا۔

محمد عبدالسلام کے مطابق، انسانی اخوت کی دستاویز محض اصولوں کا اعلان نہیں بلکہ ایک جامع انسانی و تہذیبی منصوبہ ہے، جو تعصب، انتہا پسندی اور نفرت کے خاتمے، اور مختلف قوموں اور ثقافتوں کے درمیان مشترکہ تعاون اور مکالمے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ تصور اس یقین پر مبنی ہے کہ پوری انسانیت ایک مشترکہ تقدیر اور مستقبل رکھتی ہے۔

تقریب کے اختتام پر محمد عبدالسلام نے کہا کہ انسان کی تعمیر و تربیت ہی معاشروں کی حقیقی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شعور اور اعتماد مستقبل کی تعمیر کے دو بنیادی ستون ہیں، جبکہ نئی نسلوں میں اپنی شناخت اور اعلیٰ اقدار کا شعور پیدا کرنا ناگزیر ہے، تاکہ وہ دنیا کے ساتھ مثبت انداز میں تعامل کر سکیں، اپنے وطن کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں، اور ایک زیادہ پُرامن اور انسان دوست مستقبل کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔