Muslim Elders

مسلم کونسل آف ایلڈرز..مکالمہ، رواداری اور انسانی بقائے باہمی کے کلچر کو پھیلانے کے 11 سال

آج مسلم کونسل آف ایلڈرز کے قیام کی گیارہویں سالگرہ منائی جارہی ہے جو 21 رمضان 1435ھ بمطابق 19 جولائی 2014ء کو قائم کی گئی تھی؛جس کی صدارت فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، کر رہے ہیں اور اس میں حکمت، انصاف، اعتدال اور خودمختاری کے حامل متعدد علماء، مفکرین اور معززین شامل ہیں، جس کا مقصد امن کے فروغ اور مکالمے، رواداری اور انسانی بقائے باہمی کی اقدار کو پھیلانے، امت کے مسائل میں مدد کرنے، اس کی صفوں کو یکجا کرنے اور اس کے اتحاد کو بڑھانا، عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مذہبی رہنما اورشخصیات کے کردار کو مضبوط کرنا ہے۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز کے سیکرٹری جنرل عزت مآب جج محمد عبدالسلام نے اس بات پر زور دیا کہ 11 سال قبل اپنے قیام کے بعد سے مسلم کونسل آف ایلڈرز نے امن کے فروغ، بھائی چارے اور انسانی تعارف کی اقدار کو فروغ دینے، ایک دوسرے کے ساتھ معاملات میں اسلام کی روادار اقدار کو اجاگر کرنے، مکالمے، افہام و تفہیم اور باہمی احترام کی اہمیت پر زور دینے کے علاوہ امت کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے اور اتحاد اور یکجہتی کی خاطر اسلامی اسلامی مکالمے کو فروغ دینے کے لئے اپنی کوششیں وقف کردی ہیں۔ انہوں نے کونسل کے چیئرمین، ممبران اور سٹاف کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور اس کی دانشمندانہ قیادت کی جانب سے امن اور بقائے باہمی کی اقدار کو مستحکم کرنے کیلئے کونسل کی کوششوں اور اقدامات کی حمایت کی تعریف کی۔

رواداری اور پرامن بقائے باہمی کے کلچر کو فروغ دینے کے سلسلے میں کونسل نے مشرق اور مغرب کے درمیان مکالمے کے دور شروع کرنے کے لئے کام کیا۔ جس میں فلورنس، پیرس، جنیوا، قاہرہ، ابوظہبی اور منامہ شامل تھے اور ان کا مقصد دنیا میں امن کو فروغ دینے پر مبنی کونسل کے وژن کو حاصل کرنا تھا۔ تمام مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان مکالمے کی حمایت میں ان دوروں کا اختتام انسانی بھائی چارے سے متعلق تاریخی دستاویز کے اجراء کے موقع پر ہوا جس پر فروری 2019 ء میں فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز اور کیتھولک چرچ کے پوپ فرانسس نے دستخط کیے تھے۔

کونسل نے دنیا کے مختلف براعظموں میں بین الاقوامی امن قافلے اور رمضان مشن بھی شروع کیے، جن کا مقصد مسلمانوں کے ساتھ رابطے کے پلوں کو مضبوط بنانا، روشن خیال مرکزی سوچ کو پھیلانا، غلط فہمیوں کو درست کرنا، انہیں اپنے معاشروں میں مثبت طور پر ضم ہونے کی ترغیب دینا اور ہر قسم کی نفرت، نسل پرستی، انتہا پسندی، دہشت گردی اور اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنا ہے۔ کونسل نے متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں کا بھی اہتمام کیا جن میں امن، شہریت، تنوع اور بقائے باہمی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، ماحولیاتی چیلنج کا سامنا کرنے میں مذہبی رہنماؤں کے کردار کو مضبوط بنانے اور بامعنی میڈیا مواد تیار کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نوجوانوں کے بااختیار بنانے کے حوالے سے ایک بنیادی ستون کے طور پر، جو ایک باشعور نسل کی تعمیر کے قابل ہو جو بقائے باہمی اور امن کا علم بلند کر سکے، کونسل نے کئی اقدامات شروع کیے۔ ان میں امن ساز نوجوانوں فورم، عالمی طلباء مکالمہ پروگرام براۓ انسانی بھائی چارہ، پاکستان میں آزاد فیلوشپ پروگرام مذہبی اور ثقافتی مکالمے کی ثقافت کو مستحکم کرنے اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے، اور بچوں کے لیے اخلاقی تعلیم کی فیلوشپ شامل ہیں جس کا مقصد تعلیمی نظام میں انسانی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ روابط کا اقدام جو ہمیں جوڑتا ہے، یہ رضاکارانہ کام میں شرکاء کی مہارتوں کو بہتر بناتا ہے اور مکالمے، رواداری اور بقائے باہمی کی قدریں پیدا کرتا ہے۔

اور کونسل کا اس بات پر یقین کے ساتھ کہ بات چیت مکالمے اور مشترکہ بقائے باہمی کی ثقافت کو پھیلانے میں اہمیت رکھتا ہے، کونسل نے 2019 میں "الحکماء پبلشنگ” کا آغاز کیا، جو کتابوں کی اشاعت اور ترجمے میں مہارت رکھنے والا ایک پبلشنگ ہاؤس ہے، جو رواداری اور بقائے باہمی کی ثقافت کو پھیلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی پبلش کردہ عناوین کی تعداد 250 سے زائد ہیں جو 7 سے زائد زبانوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے 2020 میں الحکماء سینٹر آف پیس ریسرچ قائم کیا، جو کہ پہلا بین الاقوامی غیر سرکاری تھنک ٹینک ہے جو سوچ اور مہارت کے بنیادی ڈھانچے کے طور پر کام کرتا ہے اور مسلم دنیا میں امن کے پیغام کی خدمت کرتا ہے۔

اور مسلم کونسل آف ایلڈرز کے بیرونی دفاتر امید کی کرن اور باہمی میل جول اور رابطے کے پل کی حیثیت رکھتے ہیں؛ کونسل نے انڈونیشیا، پاکستان، ملائیشیا، قازقستان اور دیگر ممالک میں متعدد شاخیں اور غیر ملکی دفاتر قائم کیے ہیں، جس کا مقصد دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لئے مؤثر پلیٹ فارم تیار کرنا ہے۔

آب و ہوا کے مسائل کے بارے میں، جو کہ سیارے پر زندگی کو درپیش اہم چیلنجز کی نمائندگی کرتے ہیں، مسلم کونسل آف ایلڈرز نے زمین کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں؛ جن میں جنوب مشرقی ایشیا میں مذہبی رہنماوں کے لیے آب و ہوا کے متعلق کانفرنس کا انعقاد کیا،اور ابوظہبی میں آب و ہوا کے لئے مذہبی رہنماوں اور شخصیات کے عالمی سربراہی اجلاس کا انعقاد کیا، جو کہ "ضمیر کیپکار، ابوظہبی کا مشترکہ بیان برائے آب و ہوا” کے اجرا پر اختتام پذیر ہوا، اس کے علاوہ دبئی میں COP28 کی تاریخ میں پہلی بار بین المذاہب پویلین کا انعقاد کیا،اور اسی طرح آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں مذہبی رہنماوں اور شخصیات براۓ آب و ہوا کے لئے عالمی کانفرنس کا مشترکہ نقشہ تشکیل دیا اور COP29 میں بین المذاہب پویلین کا اہتمام کیا۔

مسلم کونسل آف ایلڈرز نے امت کی حمایت اور اس کے مسائل کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی مکالمے کے نئے مرحلے کی تشکیل کے لیے کام کیا، یہ سب امام الازہر کے بحرین مکالمے میں دی گئی دعوت پر کیا تاکہ اسلامی معاملات کو مضبوط بنایا جا سکے اور امت کی وحدت میں اضافہ ہو؛ مسلم کونسل آف ایلڈرز کے جنرل سکریٹریٹ کے ایک وفد نے جمہوریہ عراق کا دورہ کیا اور عراقی عوام کے تمام طبقات کے ساتھ ملاقات کی تاکہ معاصر اسلامی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، اور تقسیم کو دور کرنے اور مذہبی بھائی چارے کی روح کو بلند کرنے کے طریقوں پر غور کیا جائے، اور متعدد علمی رہنما اور مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کی گئیں۔

19 اور 20 فروری کو مملکت بحرین نے اسلامی مکالمہ کانفرنس کے پہلے ایڈیشن کی میزبانی کی، جو شاہ بحرین حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کی سرپرستی میں فضیلت مآب امام اکبر شیخ الازہر کی موجودگی میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف مکاتب فکر اور نظریات سے تعلق رکھنے والے 400 سے زائد علماء، حوالہ جات اور مفکرین نے شرکت کی۔ جس کے نتیجے میں "اہل قبلة کی پکار” کا ميثاق جاری کیا گیا، جو مختلف مکاتب فکر اور اسلامی فکر کے درمیان مکالمے اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع دستاویز ہے۔

سال بہ سال مسلم کونسل آف ایلڈرز اعلیٰ انسانی اقدار کی تشہیر کرتی رہی ہے اور مکالمے، رواداری، احترام اور دوسروں کے قبول کرنے کی اہمیت کو فروغ دینے، مذہبی شخصیات اور اقدار کی توہین نہ کرنے، اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے، نفرت انگیز تقاریر اور عدم برداشت و اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ رابطے کو بڑھانے کے مقصد سے انسانیت کے بہتر مستقبل کے لیے کوشاں ہے۔