مسلم کونسل آف ایلڈرز، فضيلت مآب امام أكبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہرکی سربراہی، میں اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو سائنس، تحقیق اور اختراع کے شعبوں میں بااختیار بنانا ایک اخلاقی اور انسانی ضرورت ہے، تاکہ زیادہ منصفانہ اور پائیدار معاشرے قائم کیے جا سکیں۔ کونسل نے واضح کیا کہ سائنسی شعبوں میں خواتین کی موجودگی کی حمایت انسانیت کے مستقبل میں حقیقی سرمایہ کاری ہے۔
اپنے بیان میں، جو ہر سال 11 فروری کو منائے جانے والے سائنس کے شعبہ میں خواتین اور لڑکیوں کے بین الاقوامی دن پر جاری کیا گیا، کونسل نے کہا کہ تاریخ میں خواتین کی سائنسی خدمات انسانی تہذیب کی ترقی کا بنیادی ستون رہی ہیں۔ کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ لڑکیوں کے لیے معیاری اور مساوی تعلیمی مواقع، خصوصاً سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضیات (STEM) کے شعبوں میں، بے حد ضروری ہیں، کیونکہ یہ دنیا کے موجودہ عالمی چیلنجوں، جیسے موسمیاتی تبدیلی، صحت اور غذائی تحفظ، اور ڈیجیٹل تبدیلی کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
فضيلت مآب إمام أكبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطيب، شیخ الأزہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز، نے کہا کہ "عورتیں مردوں کی ہم پلہ اور شریکِ کار ہیں”۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسلام نے عورت کو زمانۂ جاہلیت کی پابندیوں سے آزاد کیا، اور اسے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے عزت و تکریم عطا کی۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کو اُن کے حقوق دلانے، اُن کی صلاحیتوں کو فروغ دینے، اور انہیں ترقی و تعمیر کے سفر میں بنیادی شریک سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نے اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ سماجی، ثقافتی اور معاشی رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو خواتین کی سائنسی شعبوں میں بھرپور شرکت میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ کونسل نے اس امر کی توثیق کی کہ ایسی پالیسیوں اور اقدامات کو اپنانا ضروری ہے جو محفوظ، منصفانہ اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے والی علمی فضا فراہم کریں۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز خواتین کے بااختیار ہونے اور ان کے کردار کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتی ہے کیونکہ اس کا یقین ہے کہ عدل، مساوات اور مواقع کی برابری کی اقدار کا استحکام سماجی امن اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ علمی و سائنسی پیش رفت کے سفر میں خواتین کی شمولیت ایک ایسے مستقبل کی تعمیر میں مدد دیتی ہے جہاں معاشرے کے تمام طبقات تعاون اور تکامل کے ساتھ آگے بڑھیں۔
