Muslim Elders

شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز نے انڈونیشیا کے صدر کا استقبال کیا اور انہوں نے امّت کو درپیش بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب اور اسلامی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔

انڈونیشیا کے صدر نے مسلم کونسل آف ایلڈرز کی "ترقی اور امن کے لیے مذاہب” کی کانفرنس کے پہلے ایڈیشن کی میزبانی پراپنے ملک کی طرف سے خوش آمدید کہا۔

فضیلت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف، چئیرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز نے آج بدھ کو جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے ملاقات کی اور مشترکہ تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

فضیلت مآب امام اکبرنے انڈونیشیا کے صدر اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کا خیر مقدم کیا۔ اور الازہر الشریف، مسلم کونسل آف ایلڈرز، اور جمہوریہ انڈونیشیا کے درمیان مضبوط تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جس نے بہت سے شعبوں میں مشترکہ تعاون پر نمایاں اثر ڈالا ہے جس کا مقصد صحیح اسلام اور اس کے معتدل، روشن خیال نقطہ نظر کو متعارف کرانا، غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا اور مکالمے، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کی اقدار کو پھیلانا ہے۔

شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز نے عرب اور اسلامی صفوں کے اتحاد پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اورکہا کہ یہ ہمارے عالم اسلام کو درپیش بحرانوں کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلامی ممالک میں ترقی اور خوشحالی کے تمام عوامل موجود ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان تمام مشکلات سے نکال کر اتحاد، یکجہتی اور اسلامی مفادات اور بھائی چارے کی سربلندی سے نوازے۔

شیخ الازہرنے انڈونیشیا کی طرف سے مسلم کونسل اف ایلڈرز کے علاقائی دفتر کی میزبانی اور مسلم کونسل آف ایلڈرز کے زیر اہتمام: (ترقی اور امن کے لیے مذاہب) اقدام پر مذہبی رہنماؤں کے عالمی اتحاد میں اہم کردار ادا کرنے پر اس کا خیرمقدم کیا۔

اپنی طرف سے انڈونیشیا کے صدر نے انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں پہلی ملاقات کے بعد دوسری مرتبہ شیخ الازہر، چیئرمین مسلم کونسل آف ایلڈرز سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا اور انسانی بھائی چارے، بقائے باہمی کی اقدار کو قائم کرنے اور عالم اسلام کے اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے فضیلت مآب امام اکبر کی کوششوں کو سراہا۔
اور اسلامی ممالک کی انسانی صلاحیتوں اور قدرتی وسائل کی روشنی میں جو ان کی ترقی اور پیشرفت کی ضمانت ہیں، عالمی نظام میں اپنا ممتاز مقام دوبارہ حاصل کرنے پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ انڈونیشیا عالم اسلام کے اتحاد کا خواہاں ہے اور اندرونی تنازعات اور تناؤ پر قابو پانے اور رابطے اور میل جول کو آگے بڑھانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔

انڈونیشیا کے صدر نے مسلم کونسل آف ایلڈرز کی "ترقی اور امن کے لیے مذاہب” کانفرنس کے پہلے ایڈیشن کی میزبانی پر اپنے ملک کے خیرمقدم کی بھی تصدیق کی۔ اس کی سرپرستی اور اسے بہترین طریقے سے ابھرنے کے لیے تمام ذرائع فراہم کرتے ہووے۔