رباط میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی کتاب اور اشاعت میلے میں مسلم کونسل آف ایلڈرز کے پویلین کے تحت ایک ثقافتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان تھا: "منصوبہ 100 سوالات: منہج، عقیدہ اور شریعت”۔ اس نشست سے الحکماء سینٹر برائے تحقیقِ امن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سمیر بودینار نے خطاب کیا، جبکہ اس موقع پر علماء، دانشوروں اور فکری و دینی امور سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اس نشست میں کتاب "منہج، عقیدہ اور شریعت میں 100 سوالات کا منصوبہ” کے مضامین کا فکری اور علمی جائزہ پیش کیا گیا۔ یہ کتاب جامعہ الازہر اور مسلم کونسل آف ایلڈرز کے باہمی علمی تعاون کا نتیجہ ہے، اور اس کا مقصد عصر حاضر میں مسلمانوں کے درمیان اٹھنے والے فکری اور اعتقادی سوالات اور شبہات کے بارے میں مستند، متوازن اور سنجیدہ علمی جوابات فراہم کرنا ہے، تاکہ دینی شعور کو بہتر بنایا جا سکے، اعتدال اور میانہ روی کے اصولوں کو مضبوط کیا جا سکے اور نفرت و انتہاپسندی کے بیانیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ڈاکٹر سمیر بودینار نے وضاحت کی کہ یہ کتاب مختلف علمی اور تاریخی مصادر پر مبنی ہے، جن میں قرآنِ کریم، سنتِ نبوی ﷺ، اور اسلامی تاریخ میں مناظروں، مکالموں اور علمی ردود پر مشتمل کتب شامل ہیں، جنہوں نے شرعی مؤقف کی بنیاد رکھنے اور اخلاقی و انسانی اقدار کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شبہات، انتہاپسندی، نفرت اور شدت پسندی جیسے مسائل صرف اسلامی ثقافت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی چیلنج ہیں جو مختلف ثقافتوں اور معاشروں میں موجود ہیں۔
اس نشست میں کتاب کے نمایاں موضوعات کو بھی اجاگر کیا گیا، جن میں شامل ہیں: دین کو سمجھنے کے اصول و طریقۂ کار (منہج)، عقل اور وحی کے درمیان تعلق، فتویٰ دینے کے قواعد و ضوابط اور شریعت کے مقاصد، نیز انسانی رویے کی تشکیل میں عقیدہ کا کردار۔ اس کے علاوہ تکفیر، خلافت اور دیگر معاصر فکری مسائل پر بھی گفتگو کی گئی۔ اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک متوازن دینی بیانیہ کی تشکیل نہایت ضروری ہے، جو شدت پسندی اور انتہاپسندی کا مؤثر مقابلہ کرے اور معاشرے میں امن، رواداری اور بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دے۔
مزید برآں، مسلم کونسل آف ایلڈرز متحدہ عرب امارات کی وزارتِ رواداری و بقائے باہمی کے تعاون سے رباط میں منعقد ہونے والے 31ویں بین الاقوامی کتاب میلے میں ایک خصوصی پویلین کے ساتھ شریک تھی، جو 10 مئی 2026 تک جاری رہا۔ اس پویلین میں 275 سے زائد علمی اور ثقافتی کتب مختلف زبانوں میں پیش کی گئیں، ساتھ ہی مکالمہ، رواداری اور انسانی اخوت کو فروغ دینے کے لیے مختلف علمی و ثقافتی پروگرامز اور نشستوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔
