مسلم کونسل آف ایلڈرز، امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف کی سربراہی میں اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ خواتین وطن اور قوموں کی تعمیر کے عمل میں بنیادی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانا، ان کی مدد کرنا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ انہیں زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ان کے مکمل حقوق فراہم کیے جائیں، ایک مذہبی اور اخلاقی فریضہ اور مشترکہ معاشرتی ذمہ داری ہے۔
مسلم کونسل آف ایلڈرز نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جو ہر سال 8 مارچ کو آتا ہے۔ ایک بیان میں کہا یہ دن خواتین کو عزت دینے اور ان کی کامیابیوں کا جشن منانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ اسلام خواتین کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے طور پر عزت دیتا ہے۔ ہر حال میں اس کا رتبہ اور وقار بلند کیا، اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کی دیکھ بھال اور خیال رکھنے کی ترغیب دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو” (صحیح مسلم) اسلام یہ بھی تنبیہ کرتا ہے کہ بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "
ایمان کے اعتبار سے کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے بہتر ہو اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو” (مسند احمد) رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:” تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھروالوں کے لیے سب سے بہتر ہوں” (سنن ترمذی)
بیان میں مزید کہا گیا کہ خواتین بھی (شرعی احکام میں) مردوں ہی کی طرح ہیں ان کی حمایت اور بااختیار بنانا مستقبل میں ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس سے پوری دنیا کو فائدہ پہنچے گا۔اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ انسانی بھائی چارے کی دستاویز جس پر امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب، شیخ الازہر الشریف اور کیتھولک چرچ کے پوپ مقدس پوپ فرانسس نے 2019 میں ابوظہبی میں دستخط کیے تھے۔ اس نے خواتین کے تعلیم اور کام کے حق کی توثیق کی اور انہیں تاریخی اور سماجی دباؤ سے جو ان کے عقیدے اور وقار کے اصولوں سے متصادم ہیں نجات دلانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مسلم کونسل اف ایلڈرز قوموں اور معاشروں کی نشاۃ ثانیہ اور انسانیت کے لیے زیادہ خوشحال اور پرامن مستقبل کی تعمیر میں اس کے نمایاں اور اہم کردار کی تعریف کرتے ہوئے خواتین کو مختلف شعبوں میں ان کے تمام حقوق کے حصول میں ان کی حمایت کی ضرورت پر اپنے پختہ یقین کی بنیاد پر بہت توجہ دیتی ہے۔
